| گلچیں کے وفادار نگہبان ہوئے ہیں |
| یوں ہی تو نہیں باغ بھی ویران ہوئے ہیں |
| جس روز سے تخلیق یہ انسان ہوئے ہیں |
| پیدا یہاں پر ساتھ ہی شیطان ہوئے ہیں |
| یہ شہر ہے یا کوئی درندوں کا ٹھکانہ |
| کیوں لوگ سبھی ظلم کا عنوان ہوئے ہیں |
| مذہب کا ہے جھگڑا تو کہیں نسل پرستی |
| معزول وفا کے سبھی فرمان ہوئے ہیں |
| حق گوئی پہ یوں ظلم و ستم ڈھائے گئے تھے |
| تاریخ کے اوراق بھی حیران ہوئے ہیں |
| کہنے کو تو مخلوق میں اشرف ہے یہ انساں |
| جذبے تو مگر اُنس کے بے جان ہوئے ہیں |
| نفرت کے تشدد کے جو تاجر ہیں جہاں میں |
| حیوان سے بڑھ کر تو یہ حیوان ہوئے ہیں |
| عادل ریاض کینیڈین |
معلومات