| وہ میرے پاس سے گزرا تو تھا مگر خاموش |
| ہر ایک بات کہی اس نے مختصر خاموش |
| ہمیں بھی اپنی اداسی پہ اب نہیں رونا |
| سو تم بھی رہنا ذرا دیر دیدہ ور خاموش |
| میں اس سے کہتا بھی کیا اپنی بے بسی کا حال |
| وہ خود ہی بیٹھا ہوا تھا سرِ سفر خاموش |
| عجیب شام تھی یادوں کی آگ جلتی تھی |
| میں اپنے گھر میں اکیلا تھا اور گھر خاموش |
| عادل ریاض کینیڈین |
معلومات