| محبتوں کی ڈھونڈ کر کوئی کُدال لائیے |
| عداوتوں کی سرزمیں سے دل نکال لائیے |
| ستم گروں کو بھی جواب میں دعائیں دیجیے |
| نہ انتقام کا دماغ میں خیال لائیے |
| جو دستیاب ہے اسی پہ صبر و شکر کیجیے |
| ملا نہیں جو اس پہ دل میں مت ملال لائیے |
| کسی کو دیکھ کر جبین پر شکن نہ ڈالیے |
| جو ڈالنا ہے کچھ، تو کپ میں چائے ڈال لائیے |
| زوال ہے جہاں کے مال و زر کو ایک دن ضرور |
| غرور کا کبھی نہ دل میں احتمال لائیے |
معلومات