محبتوں کی ڈھونڈ کر کوئی کُدال لائیے
عداوتوں کی سرزمیں سے دل نکال لائیے
ستم گروں کو بھی جواب میں دعائیں دیجیے
نہ انتقام کا دماغ میں خیال لائیے
جو دستیاب ہے اسی پہ صبر و شکر کیجیے
ملا نہیں جو اس پہ دل میں مت ملال لائیے
کسی کو دیکھ کر جبین پر شکن نہ ڈالیے
جو ڈالنا ہے کچھ، تو کپ میں چائے ڈال لائیے
زوال ہے جہاں کے مال و زر کو ایک دن ضرور
غرور کا کبھی نہ دل میں احتمال لائیے

0
3