مرنا بھی آسان نہیں ہے
مرقد کا سامان نہیں ہے
حیرت تھی معلوم ہوا جب
آدمی کوئی مہان نہیں ہے
موت کہاں کب آ کے جھپٹ لے
بس میں اپنی جان نہیں ہے
بس کر دے یہ دنیا داری
جانا اگلے جہان نہیں ہے؟
موت سے بچ کر خوش ہو لیکن
جینا بھی آسان نہیں ہے
موقع ہے تو پھر ملتے ہیں
ملنے میں نقصان نہیں ہے
کون ہے جو یہ دل سے بولے
دل میں اب ارمان نہیں ہے
عادل ریاض کینیڈین

0
27