| پہلے ہی دل جینے سے بیزار بھی ہے |
| سامنے اپنی ناؤ کے منجدھار بھی ہے |
| اس پر چلنا پھر بھی مشکل لگتا ہے |
| راہِ وفا تو سیدھی ہے ہموار بھی ہے |
| اس کی گلی میں کام ملا ہے کرنے کو |
| اور وہاں پر دلبر کا دیدار بھی ہے |
| کل تک جو پہچان پہ میری نازاں تھے |
| آج انہیں مجھ سے ملنے میں عار بھی ہے |
| دیکھ اداس نگاہوں سے بچ کر رہنا |
| تو بھولا ہے چاہت کا بیمار بھی ہے |
| آپ تو واعظ ہیں حضرت! پھر آپ یہاں؟ |
| اس کی گلی ہے پائل کی چھنکار بھی ہے |
| وقتِ نزع وہ دیکھنے آئے ہیں ہم کو |
| آنکھ میں آنسو ہونٹوں پر اقرار بھی ہے |
| عادل ریاض کینیڈین |
معلومات