تن سے جاں نکلنے میں ، دیر کتنی لگتی ہے
ہڈیوں کے گلنے میں، دیر کتنی لگتی ہے
کام جب نکل آئے، مطلبی رفیقوں کا
ان کا من بدلنے میں، دیر کتنی لگتی ہے
نیک رہ پہ چلنا تو، رب کا ہے کرم ورنہ
پاؤں کے پھسلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پیار کی جو خوشیاں ہیں کھل کے جی لو اے یارو
غم کا دیپ جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
چار دن کی دولت پر کیوں غرور کرتا ہے
دیکھ! بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
باغباں! نظر رکھنا ظالموں کی حرکت پر
کلیوں کے مسلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عزم ہو برائی کو، شہر سے مٹانے کا
گندگی کچلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

0
7