نہ کوئی حرفِ تسلی، نہ کوئی وعدہِ وصل
وہ آج ہم سے ہوا ہے اِدھر اُدھر خاموش
گئے دنوں کی تھکن چہروں پر لکھی ہوئی تھی
وہ چپ کھڑا تھا تو میں بھی تھا عمر بھر خاموش
ہمیں بھی اب کسی دستک کی آرزو نہ رہی
کہ جیسے سو گئے ہوں سارے نامہ بر خاموش
کہیں سے کوئی صدا کا سراغ مل نہ سکا
پکارتے رہے ہم کو وہ دشت و در خاموش
فصیلِ شب سے کوئی چاند جھانکتا ہی نہیں
ہوئی ہے اب کے مری چشمِ منتظر خاموش
کسی کی یاد کے سائے ہیں ہر طرف پھیلے
اسی لیے تو ہے عادل کا صحنِ گھر خاموش
عادل ریاض کینیڈین

0
9