| بام پر آپ آتے تو کیا بات تھی |
| چاند ہم دیکھ پاتے تو کیا بات تھی |
| شکریہ آپ تشریف لائے تو تھے |
| آپ آ کر نہ جاتے تو کیا بات تھی |
| دل کے ٹکڑے لیے سوچتے ہیں یہ ہم |
| تم سے دل نہ لگاتے تو کیا بات تھی |
| حسن والوں میں ہیں خوبیاں بھی بہت |
| دل نہ گر یہ دُکھاتے تو کیا بات تھی |
| ساز بارش کی رِم جھِم نے چھیڑا حسیں |
| آپ کچھ گنگناتے تو کیا بات تھی |
| ہجر میں ہم بھی روئے سبھی کی طرح |
| کچھ نیا کر دکھاتے تو کیا بات تھی |
معلومات