| بولتے ہیں وہ جھوٹ بھی اس دانائی سے |
| جھوٹ ہی بہتر لگتا ہے سچائی سے |
| زخم دِیے ہیں روح پہ اس نے بدلے میں |
| نفع اٹھایا جس نے مری اچھائی سے |
| کیسے دوست ہیں پیٹھ میں خنجر گھونپ کے بھی |
| کہتے ہیں ناراض نہ ہونا بھائی سے |
| ہم کو پتا تھا دھوکا تم نے دینا ہے |
| اور توقع کیا کرتے ہرجائی سے |
| ہر دھوکہ ہم حادثہ جان کے بھول گئے |
| لیکن باز نہ آئے تم تو ڈھٹائی سے |
| رہزن کو جب رہبر مانو گے لوگو |
| مال گنوا کر بھٹکو گے سودائی سے |
| میرے سامنے تم کو برا کوئی بولے گا؟ |
| کون الجھنا چاہے گا شیدائی سے |
معلومات