| وقت ناساز آخر گذر جائے گا |
| گر ڈٹو گے زمانہ بھی ڈر جائے گا |
| پنچھیوں کی قطاروں کی رفتار دیکھ |
| سست جو پڑ گیا وہ کدھر جائے گا |
| آزمائش کے تیزاب میں ڈال دو |
| رنگ کھوٹے کا پل میں اتر جائے گا |
| سچ کے نشتر چلاتا ہے میرا قلم |
| آج جھوٹوں کا دل یا جگر جائے گا |
| ان کی شفقت سے مجھ سا گنہگار بھی |
| ان کے در پر رہا تو سنور جائے گا |
| آفتاب آج طاقت پہ مغرور ہے |
| ٹوٹ کر یہ بھی اک دن بکھر جائے |
معلومات