| آج تلک ہے یاد تری ہر بات مجھے |
| یاد ہے عشق کی وہ پہلی برسات مجھے |
| آج اگرچہ حاصل ہے آغوش تری |
| یاد مگر ہے ہر اک ہجر کی رات مجھے |
| گرچہ زمانہ سر پہ بٹھاتا ہے مجھ کو |
| بھولی نہیں ہے اک پل بھی اوقات مجھے |
| یادوں کا اک جنگل ہے تنہائی ہے |
| کاش ملے اب اس وحشت سے نجات مجھے |
| بھول بھی جاؤں دنیا کو تو حرج نہیں |
| آخری دم تک یاد ہو رب کی ذات مجھے |
معلومات