جب وہ غم سے نڈھال ہوتا ہے
کیا عجب اپنا حال ہوتا ہے
جانِ جاں روٹھ جائے گر ہم سے
اپنا جینا محال ہوتا ہے
روح سے روح مل کے ہنستی ہے
دل کو دل کا خیال ہوتا ہے
گھر تو گھر ہے، جو گھونسلہ اجڑے
پھر بسانا محال ہوتا ہے
ٹوٹ جائے جو اک بار اعتماد
پھر نہ رشتہ بحال ہوتا ہے
یار پر جب نظر پڑے عادل
دل خوشی سے نہال ہوتا ہے

0
5