Circle Image

محمد قاسم

@Md_qasim

*پچھلے دنوں ملے ہیں یاں ،صدمے کئی مجھے*
**بے حسی بنا چکی ہے بہت زند گی مجھے*
*شمس و قمر سے مجھ کو نہیں کوئی واسطہ*
*خود کو جلا کے کرنی پڑی روشنی مجھے*
*
*شعرو سخن سے ہونے لگی آگہی مجھے*

0
3
*چھوی اپنی بنا رکھی ہے پیاری*
*اداکاری ، کلاکاری ، مداری*
*کیا کرتا تھا قتلِ عام کل تک*
*وہ بیٹھا ہے بڑا بن کے پجاری*
**ہماری آج ، کل باری تمہاری*
*بچھائے جال بیٹھا ہے شکاری*

0
2
*ہاتھ ظالم سے کیوں ملاؤں گا*
**را ہ حق میں ، میں سر کٹاؤں گا*
*خواب جھو ٹے نہیں دکھاؤں گا*
*میں حقیقت تجھےت تبتاؤں گا*
**دل میں صورت تری بساؤں گا*
*شمع الفت کی پھر جلاؤں گا**

0
2
شام ہوتے ہی مجھے ہچکیاں کیوں آ نے لگی
میں تو سمجھا تھا کہ اک یار تھا سو چھوڑ دیا
نفس" میرا جو طلب گار تھا سو چھوڑ دیا
راستہ میں نے بھی گلزار تھا سو چھوڑ دیا
حاکمِ وقت ترے ظلم کے آگے ہم نے
جو ملا تجھ سے پرسکار تھا سو چھوڑ دیا

0
4
اپنے ماں باپ سے جو سال میں دوبار ملے
رشتے غیروں سے بڑے سچے بناتا کیا ہے
کرکے مایوس ہمیں سارے زمانے میں فقط
دانت ہاتھی کے ہمیں او ر د کھا تا کیا ہے
تجھ سے ناراض ہیں یہ سارے محلے والے
درس ممبر پہ کھڑے ہو کہ سناتا کیا ہے

0
4
عشق نبی میں جن کے دل کھو جاتے ہیں
*رستے خود منزل تک چھوڑنے آتے ہیں
جیتے جی جنت کی سند وہ پاتے ہیں
جن کو آقا اپنے مدینے بلاتے ہیں
؟
آقا جن کو اپنے مدینے بلاتے ہیں

0
3
*لکھوں جو اپنی وفا کا حساب کم نہیں ہے
ہمارے خوں میں ابھی انقلاب کم نہیں ہے
وطن کے نام پہ حاضر ہیں جان دینے ہم
ہماری قوم میں باقی گلاب ، کم نہیں ہے
کسی حسینا سے تیرا شباب کم نہیں ہے
تو پردے میں ہو بھی ، تیرا حساب کم نہیں ہے

0
5