تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
پویٹری ورلڈ فیملی لیڈر مختلف سوشل میڈیا چینلز پر
5 مارچ 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
عقل کی باتوں پہ روئے ایک دیوانے کی طرح
جل اٹھا ہے دل ہوائے شب میں پروانے کی طرح
زندگی کی کشمکش سے ہم کو کیا ملنا تھا اور
بس بھلا بیٹھے ہیں خود کو ایک افسانے کی طرح
آرزو کے خون سے روشن کیا تھا جو چراغ
گر گیا ہاتھوں سے ٹوٹے ایک پیمانے کی طرح
عقل کی باتوں پہ روئے ایک دیوانے کی طرح
0
8
3 مارچ 2026
رباعی
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
خزاں کے ڈر سے ہم اپنے گلابوں کو جلا بیٹھے
ستاروں سے بغاوت کی، شرر سے دوستی کر لی
فقط اک وہم کی خاطر کتابوں کو جلا بیٹھے
محبت کی تجارت میں بڑا نقصان یوں کھایا
انا کے واسطے سارے حسابوں کو جلا بیٹھے
عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
0
15
3 مارچ 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
قربتوں کے درمیاں اِک فاصلہ رکھا میں نے
عشق کی دیوانگی میں ضابطہ رکھا میں نے
رخ پہ جب گیسو گرے اور شرم سے پلکیں جھکیں
اُس حیا پرور کے آگے آئینہ رکھا میں نے
رکھ دیا شانے پہ اُس نے جب وہ روئے ماہتاب
دل کی ہر دھڑکن سے اُس کی رابطہ رکھا میں نے
قربتوں کے درمیاں بھی فاصلہ رکھا میں نے
0
12
1 مارچ 2026
نظم
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
چھوڑ دے اے نوحہ گر اب مرثیہ خوانی نہ کر
آنسوؤں سے آگ کے شعلوں کو یوں پانی نہ کر
وقت ماتم کا نہیں ہے وقت ہے للکار کا
تولنے کا وقت ہے اب قبضۂ تلوار کا
میں نے مانا بزم سے اک، مردِ آہن اٹھ گیا
آج محفل سے ہماری جان محفل اٹھ گیا
مرد آہن: محترم آیت اللہ خامنہ ای شہید کے نام
0
24
27 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
مری یہ بات ہے وہم و گمان سے آگے
بچھا ہوا ہے جال اس مچان سے آگے
یہ رنگ و نور کا میلہ فریب ہے سارا
حقیقتیں ہیں سبھی اِس جہان سے آگے
یہ کنجِ بستہ لگتا ہے اب کوئی زنداں
نظر اٹھاؤ ذرا اس مکان سے آگے
مری یہ بات ہے وہم و گمان سے آگے
0
14
24 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
آئے ہیں ستم گر بھی مخمل کی ردا اوڑھے
چپ چاپ کھڑے ہیں ہم چہرے پہ فنا اوڑھے
گونگوں کی عدالت میں ہم کس کو بتاتے غم!
خاموش کھڑے تھے سب ہونٹوں پہ صدا اوڑھے
ہونٹوں پہ تبسم ہے بغل میں ہے چھپا خنجر
ظالم ہیں گلے ملتے زہریلی وفا اوڑھے
آئے ہیں ستم گر بھی، مخمل کی ردا اوڑھے
0
17
24 فروری 2026
رباعی
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
سفر کی دھوپ میں، جلتے سرابوں میں مہکتی ہے
تری یاد آج بھی دل کے خرابوں میں مہکتی ہے
شبِ غم کی سیاہی میں شگوفہ بن کے کھلتی ہے
بدل کر روپ راحت کا، عذابوں میں مہکتی ہے
اسے لفظوں کی یا آواز کی حاجت نہیں پڑتی
مقدس، پاک جذبوں کے حجابوں میں مہکتی ہے
سفر کی دھوپ میں، جلتے سرابوں میں مہکتی ہے
0
25
23 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
لب ملے تو خامشی نے بات کی
عشق نے تکمیل میری ذات کی
چاندنی میں گھل گئی تھی چاندنی
کہکشاؤں کو طلب اس رات کی
آئینے میں عکس جب مدغم ہوئے
قربتوں نے فاصلوں کو مات کی
لب ملے تو خامشی نے ںات کی
0
22
23 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
لفظ سارے تھک چکے ہیں، استعارے بولتے ہیں
شوخ سی اس خامشی میں، دل ہمارے بولتے ہیں
فرش پر جب کوئی عاشق درد سے آہیں بھرے ہے
عرش کی پہنائیوں میں، تب ستارے بولتے ہیں
کشتیاں جب ڈگمگائیں، حوصلے مت ہارنا تم
بحرِ غم میں ڈوبتے کو، خود کنارے بولتے ہیں
لفظ سارے تھک چکے ہیں، استعارے بولتے ہیں
0
15
21 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
وسعتِ کون و مکاں میں دشتِ امکاں خیمہ زن
چشمِ حیراں کے مقابل رازِ پنہاں خیمہ زن
ٹوٹ کر بکھری ہیں کلیاں آرزو کی شاخ سے
خلوتِ احساس میں اب دردِ ہجراں خیمہ زن
تند لہروں کی طنابیں کھینچتا ہے آسماں
بحرِ ہستی کے سفر میں شورِ طوفاں خیمہ زن
وسعتِ کون و مکاں میں دشتِ امکاں خیمہ زن
0
12
21 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
شہرِ جاناں، کوئے دل، ہر دردِ پنہاں معتبر
مسلکِ دیوانگی میں، عشقِ عریاں معتبر
عہدِ نو کی جستجو میں لٹ گئی ہر آرزو
سازشِ عقل و خرد، یا جبرِ دوراں معتبر
تیرگی کی حکمرانی میں بھٹکتی چشمِ تر
موجِ دریا، تند ساحل، شورِ طوفاں معتبر
شہرِ جاناں، کوئے دل، ہر دردِ پنہاں معتبر
0
12
21 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
فلک پر ہمارا ستارہ نہیں ہے
ہمارے سفر کا کنارہ نہیں ہے
دلوں میں بسی ہے اسی کی محبت
کہ اس کے سوا کچھ نظارہ نہیں ہے
جھکی ہیں نگاہیں حیا سے تمہاری
ہماری طرف اک اشارہ نہیں ہے
فلک پر ہمارا ستارا نہیں ہے
0
20
20 فروری 2026
آزاد نظم
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
وہ محض ایک کچا بدن کہاں تھا...
وہ تو میری کائنات کی واحد چھت تھا!
جب میری ننھی، ملائم انگلیاں
اس کی کھردری، چھالوں بھری ہتھیلیوں کو تھامتی تھیں
تو مجھے لگتا... زمانے کا کوئی طوفان مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔
میں اس کے سینے پر سر رکھتی
تناور درخت
0
13
20 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
عقل والوں کے جنوں کا آج سودا ہو گیا
چشمِ جاناں کا اشارہ ایک فتنہ ہو گیا
مسکراتے لب، جھکی نظریں، حیا کا سلسلہ
ایک پل کا دیکھنا بھی اک تماشا ہو گیا
ہجر کی تاریک شب میں یاد اس کی آ گئی
درد کا بجھتا شرارہ پھر سے تازہ ہو گیا
عقل والوں کے جنوں کا آج سودا ہوگیا
0
7
20 فروری 2026
حمد
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
خالقِ ارض و سماوات، مالکِ روزِ جزا
نورِ مطلق، ذاتِ یکتا، کبریا و بے نیاز
صانعِ کل، رازقِ جاں، عالمِ سر و نہاں
قادرِ مطلق، رحیم و مہرباں، بندہ نواز
جلوہِ ربِّ جلیل و قدرتِ پروردگار
قطرہ قطرہ، ذرہ ذرہ، مظہرِ پروردگار
حمد باری تعالیٰ
0
12
20 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
عشقِ خالق، چشمِ حیراں، سوزِ باطن، فتحِ باب
ذکرِ دائم، فکرِ کامل، نورِ پیہم، لاجواب
دردِ فرقت، یادِ جاناں، شامِ تنہا، جاں گداز
چشمِ پرنم، قلبِ عریاں، آہِ سوزاں، اضطراب
ظلمِ حاکم، آہِ مفلس، جبرِ پیہم، بے اماں
خونِ ناحق، شہرِ ویراں، قومِ برہم، انقلاب
عشقِ خالق، چشمِ حیراں، سوزِ باطن، فتحِ باب
0
14
19 فروری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
کبھی خوشی تو کبھی درد کا علم بھی ہے
حیات کیا ہے؟ کوئی مستقل ستم بھی ہے
وہ بے رخی سے جو دیکھے تو مسکرا دینا
شکستہ دل کی حفاظت کا اک بھرم بھی ہے
ہم اپنی آنکھ کی نمی کو خود ہی پیتے ہیں
ہمارے ضبط کی دنیا میں تیرا غم بھی ہے
کبھی خوشی تو کبھی درد کا بھرم بھی ہے
0
8
18 جنوری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
اَشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر
دل لرزنے لگا نقشِ در دیکھ کر
اک تمنا نے دل کو جلا رکھا ہے
آگ لگتی ہے اک چشمِ تر دیکھ کر
ہر گلی میں دیے جل اٹھے یادوں کے
ہم تو ٹھہرے تھے ویراں نگر دیکھ کر
اشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر
0
13
18 جنوری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
سلگتا سا اک سگار ہوں میں
کسی کے لب کی پکار ہوں میں
ضدوں کی ہی اپنی راکھ ٹھہرا
ہوا کا کامل غبار ہوں میں
اٹھا ہے جو سانس سے دھواں اب
دہکتا سا اک شرار ہوں میں
سلگتا سا اک سگار ہوں میں
0
32
12 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
ہو کہاں فانی دنیا کو مکاں کہنے والوں
چند نہ عاقلوں کو اک کارواں کہنے والوں
اپنی کسی صورت نہ بدل پاۓ گی رنگت
اٹھ بھی جاؤ زمیں کو آسماں کہنے والوں
عنقِ زیبا پر لکھا ہے کچھ، تو بتاؤ
تیکھی نظر کو قتل کا ساماں کہنے والوں
المیر بیخود
1
35
6 اکتوبر 2025
آزاد نظم
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
طلسمِ سخن
اے زمِینِ طلسم!
تو نے کب دیکھا کہ ہم نے
اپنے زخموں کو غزل میں ڈھالا
ہر درد کو اک مصرع بنایا
ہر آہ سے اک نغمہ اٹھایا
طلسمِ سخن
0
16
6 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
ان کے آنے تک ہم تہہِ آب ہو جائیں گے
پلکوں پر جل کر خواب سراب ہو جائیں گے
دَشتِ جُنوں میں باقی ہے سَفَر کا نَقشِ خیال
قَدموں کے اُٹھتے ہی ہم بے تاب ہو جائیں گے
شَبِ فُرقت کی جو اذِیَّت ہے، وہ مَت پُوچھو
اشک آنکھوں سے بہہ کے سیلاب ہو جائیں گے
المیر بیخود
0
20
5 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
کہاں تک دردِ دل اپنا عیاں ہے
کہ ہر اک آنکھ میں غم کا گماں ہے
جو گزرا ہے شب و روزِ زماں میں
وہ ہر اک سانس میں قصہ رواں ہے
لگی ہے آگ دل مضطر میں ہر دم
کوئی آہ و نوا ہے نا دھواں ہے
المیر بیخود کی غزلیں
1
43
5 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
دل مرا ہے کہ ٹوٹا ہے کوئی بادل
آج رویا یا برسا ہے کوئی بادل
یادوں میں چھایا ہے دھندلا سا منظر بھی
جیسے خوابوں میں آیا ہے کوئی بادل
دشت ہستی ہوئی ہے پیاسی صدیوں سے
کب یہاں آ کے ٹھہرا ہے کوئی بادل
المیر بیخود کی غزلیں
0
38
معلومات