سلگتا سا اک سگار ہوں میں
کسی کے لب کی پکار ہوں میں
ضدوں کی ہی اپنی راکھ ٹھہرا
ہوا کا کامل غبار ہوں میں
اٹھا ہے جو سانس سے دھواں اب
دہکتا سا اک شرار ہوں میں
مرے سکوں پر ہنسے ہے دنیا
خود اپنی ہی جاں پہ بار ہوں میں
سلگنا میرا نصیب ٹھہرا
دکھوں کا گہرا حصار ہوں میں
خوشی ہوئی جل کے لمحے میں راکھ
خزاں کی ہی یادگار ہوں میں
بجھا کے چپ چاپ بیٹھے ہیں کیوں
فضا میں بکھرا فشار ہوں میں

0
8