| تھمی ہے تمنا سرابوں کے اندر |
| دھڑکتا ہے دل اِن عذابوں کے اندر |
| سوالِ وفا پر خموشی ملی ہے |
| بڑی الجھنیں ہیں جوابوں کے اندر |
| عجب دلکشی ہے نگاہوں میں اس کی |
| بھلا وہ چھپے کیا حجابوں کے اندر |
| کوئی کیا کرے ان لبوں کا تقابل |
| کہاں وہ کشش اِن گلابوں کے اندر |
| تری چشمِ ساقی کا صدقہ اتاروں |
| نشہ یہ کہاں ہے شرابوں کے اندر |
| محبت میں کیسا زیاں اور منافع |
| خلوصِ وفا کیا حسابوں کے اندر |
| جنونِ محبت سکھایا نہ جائے |
| یہ دریا نہ ٹھہرے نصابوں کے اندر |
| سبق جو سکھائے ہمیں زندگی نے |
| نہیں مل سکے وہ کتابوں کے اندر |
| مکاں گر پرانے ہی سہی ہمارے |
| خزانے ملیں گے خرابوں کے اندر |
| قلندر بنے اپنی دُھن میں چلے ہم |
| کشش اب نہ کوئی خطابوں کے اندر |
| صدائے دل و جاں بہت منفرد ہے |
| کہاں درد ایسا ربابوں کے اندر |
معلومات