میز کے کونے پر
وہ چائے کی پیالی کا داغ
اب لکڑی کے ریشوں میں اتر چکا ہے
ہمیشہ کے لیے۔
آوازیں
گھر چھوڑ کر نہیں جاتیں
بس کواڑ کی درزوں میں چھپ جاتی ہیں
یا پردوں کی سلوٹوں میں۔
جیسے تم...
گئے نہیں ہو۔
صرف اس بھاری جلد والی کتاب کے
صفحہ نمبر ایک سو گیارہ کے درمیان
محبوس ہو گئے ہو۔
ایک زرد، خستہ پتی کی شکل میں
جس کی رگوں کا خون خشک ہو کر
بھورا پڑ چکا ہے۔
میں اس کتاب کو چھوتا نہیں۔
ڈر لگتا ہے...
کہ ورق پلٹنے کی ذرا سی جنبش سے
وہ سوکھا ہوا پھول
راکھ بن کر
میرے ہاتھ کی لکیروں میں بکھر نہ جائے۔

0
34