| چشمِ حیراں میں سلگتے سب شرارے راکھ ہیں |
| تیرہ شب کی وسعتوں میں اب ستارے راکھ ہیں |
| دھوپ کے صحرا میں کھو کر رہ گئی ہے آب جو |
| پیاس کی شدت سے دریا کے کنارے راکھ ہیں |
| خامشی کی برف میں کھو کر مٹی ہے ہر صدا |
| منزلوں کی سمت جاتے سب اشارے راکھ ہیں |
| گر پڑی ہے ٹوٹ کر تاروں بھری اِک کہکشاں |
| اِس تلاطم میں ہمارے سب سہارے راکھ ہیں |
| حافظے کے طاق پر رکھی ہوئی ہر آرزو |
| بجھ گئی ہے، اور اب سارے خسارے راکھ ہیں |
| سنگِ مرمر کی جبینوں پر لکھی تھی جو بقا |
| وقت کے سیلاب میں ڈوبے منارے راکھ ہیں |
| خواب کی اِن ڈالیوں پر پھول تھے یا آگ تھی |
| نیند سے جاگے تو وہ سارے نظارے راکھ ہیں |
| کائناتِ بے کراں کی سرد مہری دیکھ کر |
| ہم نے جو پلکوں پہ پالے چاند تارے، راکھ ہیں |
| زندگی بھر اِک طلسمِ جاوداں کے شوق میں |
| ہم نے جتنے بھی حسیں لمحے گزارے، راکھ ہیں |
معلومات