قربتوں کے درمیاں اِک فاصلہ رکھا میں نے
عشق کی دیوانگی میں ضابطہ رکھا میں نے
​رخ پہ جب گیسو گرے اور شرم سے پلکیں جھکیں
اُس حیا پرور کے آگے آئینہ رکھا میں نے
​رکھ دیا شانے پہ اُس نے جب وہ روئے ماہتاب
دل کی ہر دھڑکن سے اُس کی رابطہ رکھا میں نے
​خلوتوں کی رات، اُس کے کانپتے ہونٹوں کا ڈر
وصل میں پاکیزگی کا فیصلہ رکھا میں نے
​ہم سفر اُس کو بنا کر چل پڑا ہوں راہ پر
رسِتے زخموں کا جدا اِک قافلہ رکھا میں نے
​ہجر کا اندیشہ اُس کی چشمِ نم میں دیکھ کر
اشک پینے کا مسلسل حوصلہ رکھا میں نے
​زہرِ خاموشی اُسے اندر سے ڈس لے گا کہیں
گفتگو کا اُس کی خاطر سلسلہ رکھا میں نے

0
12