| قربتوں کے درمیاں اِک فاصلہ رکھا میں نے |
| عشق کی دیوانگی میں ضابطہ رکھا میں نے |
| رخ پہ جب گیسو گرے اور شرم سے پلکیں جھکیں |
| اُس حیا پرور کے آگے آئینہ رکھا میں نے |
| رکھ دیا شانے پہ اُس نے جب وہ روئے ماہتاب |
| دل کی ہر دھڑکن سے اُس کی رابطہ رکھا میں نے |
| خلوتوں کی رات، اُس کے کانپتے ہونٹوں کا ڈر |
| وصل میں پاکیزگی کا فیصلہ رکھا میں نے |
| ہم سفر اُس کو بنا کر چل پڑا ہوں راہ پر |
| رسِتے زخموں کا جدا اِک قافلہ رکھا میں نے |
| ہجر کا اندیشہ اُس کی چشمِ نم میں دیکھ کر |
| اشک پینے کا مسلسل حوصلہ رکھا میں نے |
| زہرِ خاموشی اُسے اندر سے ڈس لے گا کہیں |
| گفتگو کا اُس کی خاطر سلسلہ رکھا میں نے |
معلومات