لفظوں کا تاج محل
یہ جو مرمر کے حسیں محل ہیں
یہ فقط شاہوں کی جھوٹی اور تکبر سے بھری
انا کے ہیں نشاں!
میں نے سوچا تھا کہ میں
اپنے لفظوں کی چمکتی ہوئی، انوکھی صنعتوں سے
تیرے رخساروں پر، زلفوں پر، تری آنکھوں پر
اک ایسی غزل تخلیق کر دوں
جو ترے حسن کو صدیوں کے لیے زندہ رکھے!
میں نے سوچا تھا، مری جانِ غزل!
میں ترا شاہِ جہاں ہوں...
اور تو...
جو مری غزلوں کے لفظوں میں کہیں قید تھی
تو نے اک رات بہت درد بھرے لہجے میں
مجھ سے بس اتنا کہا تھا:
"میرے دکھ درد کو لفظوں میں پرونے والے!
اپنے فن کے حسیں زعم میں
کھوئے ہوئے مغرور شاعر سن!
مجھ کو غزلوں کے کسی تاج محل کی کوئی حاجت ہی نہیں
مجھ کو بس ایک پلٹتی ہوئی طائر سی نگاہ
ایک لمحے کی سماعت دے دے!
میری سسکی، مری آواز تو سن..."
میں کہ اک شاعرِ برباد، انا کا مارا!
میں نے ہنس کر کہا:
"اے مری جانِ تمنا، مری الہام کی دیوی، سن لے!
میں ترے حسن پہ اک شاہکار تخلیق کروں گا، ٹھہر جا!
مجھ کو فرصت نہیں..."
اور پھر...
وقت کی تار پہ لرزتی ہوئی وہ تیری صدا
ایک پل کے لیے ابھری اور اچانک ٹوٹ گئی!
وہ سماعت کی طلب گار، سسکتی خواہش
مرے تخیل کے ویران صحرا میں کہیں کھو گئی...
اور آج...
برسوں کے گزر جانے کے بعد
میرے ہاتھوں میں مری غزلوں کا شاہکار ہے
جس میں لفظ روتے ہیں
قوافی سبھی ماتم کناں ہیں
اور میں...
اپنے لفظوں کے اس تاج محل میں تنہا
تیرے اس ایک ادھورے سے، سسکتے لمحے
تجھ سے چھینے ہوئے وقت کا نوحہ گر ہوں!
ہاں، مری جانِ غزل!
فن کا یہ تاج محل
میری جھوٹی انا کا، مری غفلت کا
فقط ایک حسیں مقبرہ ہے!

0
3