عجب عالم ہے، اب اپنی وفاؤں پر گماں گزرے
مجھے اپنے مقدّر کی دعاؤں پر گماں گزرے
یہاں منصف تماشائی، یہاں قاتل محافظ ہیں
ملیں جو بے گناہوں کو، سزاؤں پر گماں گزرے
لباسِ پارسائی میں لٹیرے گھومتے ہیں اب
فقیروں کو جو دیکھوں تو عباؤں پر گماں گزرے
مسیحاؤں کے وعدے تو سرابوں کی طرح نکلے
منادی کرنے والوں کی نداؤں پر گماں گزرے
تری زلفوں کی چاندی عہدِ رفتہ کی کہانی ہے
ترا چہرہ جو دیکھوں تو اداؤں پر گماں گزرے
تبسم لب پہ لا کر اس قدر اس نے ستم ڈھائے
مرا قاتل جو روئے تو جفاؤں پر گماں گزرے
کبھی یہ بادِ صبا اک پیامِ یار لاتی تھی
بھڑکتے شہر میں اب تو ہواؤں پر گماں گزرے
گئی رت کی خموشی نے مجھے اتنا ڈرایا ہے
ہوا دستک بھی دے تو اب صداؤں پر گماں گزرے
تباہی اس قدر پھیلی کہ اب دل کو سکوں سا ہے
فلک سے گرتی طوفانی بلاؤں پر گماں گزرے
زمیں کی وسعتیں بھی اک قفس معلوم ہوتی ہیں
پرندے لوٹ آئیں تو فضاؤں پر گماں گزرے
سنا ہے طائرِ سدرہ کے گیتوں میں بھی نوحے ہیں
چمن میں گونجتی ان خوش نواؤں پر گماں گزرے
عطا تیری، کرم تیرا، تری بخشش کے صدقے میں
مجھے اپنے گناہوں اور خطاؤں پر گماں گزرے
سنو المیرؔ! بستی میں بچے ہیں اب فقط سائے
حیاتِ رائیگاں کی انتہاؤں پر گماں گزرے

0
4