ان کے آنے تک ہم تہہِ آب ہو جائیں گے
پلکوں پر جل کر خواب سراب ہو جائیں گے
دَشتِ جُنوں میں باقی ہے سَفَر کا نَقشِ خیال
قَدموں کے اُٹھتے ہی ہم بے تاب ہو جائیں گے
شَبِ فُرقت کی جو اذِیَّت ہے، وہ مَت پُوچھو
اشک آنکھوں سے بہہ کے سیلاب ہو جائیں گے
چھپا ہے اپنی خاموشی میں شورِ محشر
ہم بولیں گے تو زَمانے خراب ہو جائیں گے
ہے اک اک حرف میں سوز و گُداز کا وہ عالم
جیسے اوراقِ دل سے حجاب ہو جائیں گے

0
19