درد نے کر دیا اندر سے جو سیماب مجھے
کھا گیا اپنے ہی افکار کا گرداب مجھے
طاقِ افلاس پہ رکھا ہوا اک دیپ ہوں میں
جانچتی ہے مری دنیا مرے اسباب مجھے
کون کہتا ہے کہ تریاق میں ہے جامِ جم
سونپ رکھا ہے مقدر نے یہ زہراب مجھے
صبحِ امید کا ہر روز دلاسا دے کر
سونپ جاتا ہے شبِ تار کو آفتاب مجھے
ڈھونڈتا پھر رہا تھا دنیا میں دیوانے کی طرح
کر گئی کھوج تری، بھیڑ میں نایاب مجھے
طاقِ دل پر جو ترا عکس ابھر آئے کبھی
یاد آتی ہے ترے حسن کی محراب مجھے
دل میں برپا ہے سمندر سا تلاطم شب و روز
کر نہ ڈالے یہ تری چشمِ تر غرقاب مجھے
اک پرانا سا کوئی ساز ہوں میں محفل کا
چھیڑتی رہتی ہے ہر درد کی مضراب مجھے
چین کا ایک بھی لمحہ نہیں ملنے پاتا
درد کی آنچ نے رکھا ہے یوں بیتاب مجھے
آنکھ جب نم ہو تو ہوتا ہے سحابوں کا گماں
لے نہ ڈوبے مرے اشکوں کا یہ سیلاب مجھے
چاندنی ہاتھ میں لاۓ تو کھٹکتا ہے بہت
اب ڈراتا ہے ہو کے روبرو مہتاب مجھے

0
6