نگاہوں میں سرابوں کے سوا منظر نہیں آتا
بھٹکتا پھر رہا ہوں میں، کوئی رہبر نہیں آتا
ہماری شانِ استغنا پہ کتنا دنگ ہے وہ بھی
ہماری تمکنت کے روبرو قیصر نہیں آتا
مرے آنگن میں یادیں تو چلی آتی ہیں راتوں کو
مگر ملنے کبھی وہ بے وفا دلبر نہیں آتا
تماشائی بنے بیٹھے ہیں اہلِ شہر سب کے سب
بچانے کے لیے مظلوم کو لشکر نہیں آتا
ہزاروں سال سے جاری ہے گردش ان ستاروں کی
سمجھ میں گردشِ ایام کا محور نہیں آتا
وفا کی راہ میں چلنا بہت مشکل ہے دیوانو!
خوشی سے کوئی بھی اس راہ میں مضطر نہیں آتا
سبھی المیرؔ اس دنیا میں ہیں اپنی غرض والے
کوئی بھی بے غرض الفت کا اب خوگر نہیں آتا

0
3