طوفان میں یقیں کے سفینے بچے رہیں
یارب مرے جنوں کے دفینے بچے رہیں
لٹ جائے سب متاعِ جہاں، کوئی غم نہیں
دل میں مرے خلوص کے خزینے بچے رہیں
صحرا میں تشنگی کے سہے وار اس لیے
پیاسے رہیں، وفا کے قرینے بچے رہیں
بازار میں ہوس کے خریدار ہیں بہت
اس بھیڑ میں حیا کے نگینے بچے رہیں
کٹ جائے سنگلاخ چٹانوں پہ زندگی
چہرے پہ جستجو کے پسینے بچے رہیں
تاریک گر ہے ہجر کی شب، کوئی غم نہیں
یادوں میں قربتوں کے مہینے بچے رہیں
المیرؔ مٹ بھی جائے یہ دنیا تو غم نہیں
آباد بس یہ دل کے مدینے بچے رہیں

0
3