روح میں پھر آج وہ وارفتگی سی جاگتی ہے
لمس کی گرمی سے اک دلبستگی سی جاگتی ہے
نرم جھونکے جب گلوں کے ہونٹ چھو کر لوٹتے ہیں
پھر فضا میں اک سریلی نغمگی سی جاگتی ہے
بے تکلف روپ کا جلوہ نگاہوں میں سجے جب
عقل کی حد سے پرے اک سادگی سی جاگتی ہے
اک حسیں احساس کی بارش میں تن بھیگے کبھی تو
فکر کے دالان میں اک تازگی سی جاگتی ہے
مست آنکھوں کی کشش جب یاد آنے لگتی ہے تو
دل کے ہر اک زاویے میں تشنگی سی جاگتی ہے
جب فلک پر یہ گھنے بادل بسیرا ڈھونڈتے ہیں
دھڑکنوں میں اک عجب وابستگی سی جاگتی ہے
دید کے ساغر جو پی لوں مستیوں میں ڈوب کر میں
ہوش اڑتے ہیں تو دل میں دل لگی سی جاگتی ہے
اک حسیں دہلیز پر میں جا کے رکھ دیتا ہوں سر کو
جب مری آنکھوں کے اندر تیرگی سی جاگتی ہے

0
6