| اَشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر |
| دل لرزنے لگا نقشِ در دیکھ کر |
| اک تمنا نے دل کو جلا رکھا ہے |
| آگ لگتی ہے اک چشمِ تر دیکھ کر |
| ہر گلی میں دیے جل اٹھے یادوں کے |
| ہم تو ٹھہرے تھے ویراں نگر دیکھ کر |
| خواب بھی کوئی جیسے حقیقت ہوا |
| دل بھی کانپا ہے قندیل زر دیکھ کر |
| ہم سے پوچھو وفا کی کہانی کبھی |
| گزری جو ہم پہ اس کا حذر دیکھ کر |
| کیسے غم ہوں گے پنہاں بہ لب خندہ زن |
| کون سمجھے ہے شعلہ شرر دیکھ کر |
| خاک پر بھی نمو کی دعا مانگی ہے |
| سجدے ہم نے کیے سنگِ در دیکھ کر |
| ایسا چپ چاپ موسم کبھی بھی نہ تھا |
| سانس رکتی ہے شام و سحر دیکھ کر |
| زخم بھی بول اٹھتے ہیں شب میں کبھی |
| دل سلگ اٹھا ہے چارہ گر دیکھ کر |
| شبنمِ غم بہا آنکھ سے رات بھر |
| چاند دھندلا گیا رہ گزر دیکھ کر |
| جانے کیا لکھ دیا عرصہ خاموشی میں |
| دل سلگ اٹھا ہے نامہ بر دیکھ کر |
| المیرؔ! ہم بھی بکھرنے لگے دہر میں |
| وہ رکا اک پل ارضِ ہنر دیکھ کر |
معلومات