| جب ترے لہجے کی شبنم نے تمازت اوڑھ لی |
| میں نے خاموشی سے پھر اک مسافت اوڑھ لی |
| بے حسوں کی بھیڑ میں کیا بات کرتے درد کی |
| اس لیے ہم نے بھی چہرے پر متانت اوڑھ لی |
| ہار کر بھی عشق میں خود دار رہنا شرط تھا |
| دل کے زخموں نے تبسم کی شباہت اوڑھ لی |
| اس کے جانے کا بھلا کس نے منایا سوگ تھا |
| چشمِ نم روئی نہیں، دل نے قیامت اوڑھ لی |
| ہاتھ میں خنجر چھپائے مسکراتے لوگ تھے |
| اس لیے ملتے ہوئے میں نے مروت اوڑھ لی |
| رات بھر محفل میں اس کی گفتگو ہوتی رہی |
| میں نے تنہائی میں چپکے سے اذیت اوڑھ لی |
| اس کے حصے کی خطائیں سب مرے سر آ گئیں |
| مسکرا کر میں نے چپکے سے ملامت اوڑھ لی |
| جانتے تھے ہم کہ جھوٹے ہیں ترے دعوے مگر |
| ہم نے لفظوں پر ہمیشہ ہی صداقت اوڑھ لی |
معلومات