عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
خزاں کے ڈر سے ہم اپنے گلابوں کو جلا بیٹھے
ستاروں سے بغاوت کی، شرر سے دوستی کر لی
فقط اک وہم کی خاطر کتابوں کو جلا بیٹھے
محبت کی تجارت میں بڑا نقصان یوں کھایا
انا کے واسطے سارے حسابوں کو جلا بیٹھے
سوالوں کی چبھن سے دل لہو روتا رہا شب بھر
تپش سے راست گوئی کی جوابوں کو جلا بیٹھے
ذرا سی دھوپ سے ڈر کر چھتیں اپنی گرا ڈالیں
نئی راحت کی خواہش میں، عذابوں کو جلا بیٹھے
تکبر اور رعونت کا عجب اک شوق برپا تھا
غرورِ ذات میں ہم تو طنابوں کو جلا بیٹھے
بلندی کی ہوس نے پنکھ سارے نوچ ڈالے ہیں
فلک کو چھونے کی ضد میں عقابوں کو جلا بیٹھے
ذرا سی رنجشوں پر ہم نے کیا کیا طنز کس ڈالے
بھری محفل میں ہم سارے حجابوں کو جلا بیٹھے
دکھاوے کی طلب نے کھا لیا اخلاص کا جوہر
انا کی آگ میں سارے ثوابوں کو جلا بیٹھے
نئی تہذیب کی لہروں میں ایسے بہہ گئے یارو
وفا و شرم کے سارے نصابوں کو جلا بیٹھے
سکوتِ مرگ طاری کر لیا خود اپنی ہستی پر
کسی کے سوگ میں سارے ربابوں کو جلا بیٹھے
حقیقت کی ہوا کا ایک جھونکا آ گیا جس دم
خود اپنے ہاتھ سے سارے حبابوں کو جلا بیٹھے
درِ درویش پر آئے تو سب کچھ ہیچ لگتا تھا
ندامت میں سبھی جھوٹے خطابوں کو جلا بیٹھے
عجب یہ دشتِ وحشت تھا کہ پیاسے مر گئے لیکن
سفینوں کو ڈبو ڈالا، سرابوں کو جلا بیٹھے
ستم کی انتہا کر دی، ڈرے نہ قہرِ یزداں سے
شقاوت میں خود اپنے پر عتابوں کو جلا بیٹھے

0
4