جنوں کی قید سے نکلے تو کس حصار میں آئے
ہماری آنکھ کھلی اور ہم غبار میں آئے
وہ ایک شخص تھا جس سے نمو تھی پھولوں کی
اسی کو ڈھونڈنے ہم موسمِ بہار میں آئے
ہمیں تو تیرے تغافل نے مار ہی ڈالا
وہ خوش نصیب تھے جو تیرے اعتبار میں آئے
کہاں تلک کوئی سہے گا رفاقتِ درد
کہاں تلک کوئی ہر روز انتظار میں آئے
فصیلِ شہر پہ بیٹھی ہے اک عجب چپ سی
کہ جیسے لوگ کسی جبر کے فشار میں آئے
کئی ستارے ہوئے دفن تیرگی کے تلے
کئی چراغ اندھیروں کے اختیار میں آئے
ہر ایک عہد میں مقتل ہی سرخرو ٹھہرا
ہر ایک عہد میں عاشق اسی وقار میں آئے
کسی بھی موڑ پہ مڑ کر نہیں تڑپتا دل
عجب طرح کے ہم آج کل قرار میں آئے
ہوائے ظلمتِ شب ہم کو لے گئی آخر
بھٹکتے پھرتے تھے ہم، اور اب مزار میں آئے

0
5