| اُڑتی خاکِ دل میں ہیں محشر کے سائے جا بجا |
| چشمِ حیراں کو دکھیں، گمراہ رستے جا بجا |
| بوجھ بن کر رہ گیا دل، منزلوں کی راہ میں |
| دشتِ تنہائی میں رکھے، غم کے خیمے جا بجا |
| طنز کے تیروں سے چھلنی ہو گیا سینہ مرا |
| اہلِ دل پر کس رہے، کم ظرف طعنے جا بجا |
| عکسِ ذاتِ کبریا سے، جگمگائی ہے زمیں |
| چشمِ عارف پر کھلے، اسرارِ جلوے جا بجا |
| پیاس صحرا کی بجھانے، ابرِ رحمت آ گیا |
| کوہِ الفت سے ابلتے، صاف چشمے جا بجا |
| ہوش کی باتیں نہ چھیڑو زاہدِ ناداں یہاں |
| کر رہے ہیں رقصِ بسمل، شوخ فتنے جا بجا |
معلومات