مری پیاسی نگاہوں کو سراب اچھا نہیں لگتا
کھلی ہیں جب سے آنکھیں، کوئی خواب اچھا نہیں لگتا
مجھے سچی عداوت سے سکوں ملنے لگا ہے اب
مجھے رشتوں پہ پڑتا یہ نقاب اچھا نہیں لگتا
جدائی میں تڑپنے کی رہی عادت، مگر سن لو!
مسلسل جیتے رہنے کا عذاب اچھا نہیں لگتا
اک تعلق جب سے میری روح کا، دل سے جڑا ہے
تخیل کے سفر میں بھی حجاب اچھا نہیں لگتا
کوئی طعنے کی صورت گر مجھے پھولوں کا تحفہ دے
تو پھر اس بد مزاجی میں گلاب اچھا نہیں لگتا
محبت میں کھرے کھوٹے کو پرکھا ہی نہیں جاتا
وفاؤں کی تجارت کا حساب اچھا نہیں لگتا
بہت پرنور ہوتی ہے بزرگی بھی زمانے میں
بناوٹ سے سجا جھوٹا شباب اچھا نہیں لگتا
زمانے نے مری کردار میں بس خامیاں ڈھونڈیں
انہیں میری صفائی میں جواب اچھا نہیں لگتا
مرے اندر اداسی کا کوئی ماتم بپا ہے اب
مجھے اس رنج کے لمحے رباب اچھا نہیں لگتا
پڑھا ہے جب سے المیرؔ اس جنوں کے مدرسے میں تو
خرد کے قاعدوں کا یہ نصاب اچھا نہیں لگتا

0