چھوڑ دے اے نوحہ گر اب مرثیہ خوانی نہ کر
آنسوؤں سے آگ کے شعلوں کو یوں پانی نہ کر
وقت ماتم کا نہیں ہے وقت ہے للکار کا
تولنے کا وقت ہے اب قبضۂ تلوار کا
میں نے مانا بزم سے اک، مردِ آہن اٹھ گیا
آج محفل سے ہماری جان محفل اٹھ گیا
میں نے مانا چھن گیا ہے اک مجاہد اک ولی
خون کے طوفان میں ہے آج یہ کشتی چلی
میں نے مانا دل فگار و خوں فشاں ہے آج تو
غم کی شدت سے سرِ راہِ فغاں ہے آج تو
چھن گئی ہے ظلمتِ شب میں ہدایت کی دلیل
ہو گیا ہے خوں میں غلطاں آج اک مردِ خلیل
ہاں مگر اس خون سے اک انقلاب آئے گا اب
ظالموں پر قہر بن کر اک عذاب آئے گا اب
اپنے اشکوں کو اب اپنی تیغِ برّاں کر بھی لے
خونِ ناحق سے رقم عہدِ بہاراں کر بھی لے
رنگ دے اب دشت کو تو غازیوں کے خون سے
توڑ دے طوقِ غلامی جاگ اب اس افسوں سے
دیکھ باطل کے محل کیونکر لرزتے ہیں یہاں
ظلم کے ایوان و خیمے سب جھلستے ہیں یہاں
اٹھ رہی ہے دشت سے وہ آندھی تکبیر دیکھ
ہر مسلماں بن چکا ہے بپھری اک شمشیر دیکھ
خونِ رہبر رائیگاں ہرگز کبھی جائے گا کیا؟
ظلم کا تاریک سایہ دائمی رہ پائے گا کیا؟
گونجتی ہے آج بھی مقتل کی وہ زخمی فضا
دے رہی ہے آج امت کو بغاوت کی صدا
اب نہ رکنا ہے تجھے، ہرگز نہ جھکنا ہے تجھے
آتشِ نمرود میں بھی مسکرانا ہے تجھے
یاد کر وہ بدر و خیبر کی فضائیں یاد کر
ضربتِ حیدر کی وہ کڑکتی صدائیں یاد کر
تو اسی حیدر کا وارث، تو اسی کا نور ہے
پھر ترے سینے میں کیوں یہ بزدلی مستور ہے؟
طاقِ نسیاں پر سجا دے مصلحت کے باب کو
چھین لے طاغوت کی آنکھوں سے باطل خواب کو
ایک طوفانِ بلا اب وادیوں سے آئے گا
خونِ ناحق سے ستم گر کا محل ڈھے جائے گا
خون سے اپنے رقم کر جراتوں کی داستان
یاد رکھے گی جسے ساری زمین و آسمان
ہر مسلماں آج اٹھے، شعلۂ جوالہ بن
وقت کا اک زلزلہ بن، حشر کا ہنگامہ بن
اس شہادت سے ملی ہے، زندگی کو حریت
جس سے اب معمور ہو گی یہ فضائے حریت
دیکھ اس خونِ شہادت سے طلوعِ آفتاب
لا کے چھوڑے گا جہاں میں اک نیا ہی انقلاب

0
9