بے قراری
یہ کیسی رت پلٹ آئی ہے پھر سے!
ہوا میں راکھ اڑتی ہے
مگر سینے کی ویرانی میں جیسے
وہی اک آنچ، اک مبہم سی خواہش
جنم لینے لگی ہے
کہیں گہری، بہت تاریک خندق میں
لہو پھر جاگ اٹھا ہے!
عجب تسخیر ہے اس وارفتگی میں
کہ دل خود مانگتا ہے چاک ہونا
بڑی مانوس سی لگتی ہے یہ تاراجیِ جاں
بظاہر عقل کہتی ہے کہ بچ جاؤ
مگر رگ رگ ترستی ہے
کہ پھر کوئی نیا، کوئی کڑا سا وار ہو جائے
ہمیں پھر شوق ہے مٹی میں ملنے کا
وہی رستے، وہی آبلہ پائی
وہی رسوائیوں کے زہر پینے کی طلب ہے!
یہ سب دیوانگی یونہی نہیں ہے
یہ خبطِ رائیگانی بے سبب کیسے ہو آخر؟
کہ ہم سو بار لٹ کر بھی
اسی مقتل کے دروازے پہ کیوں واپس کھڑے ہیں؟
کوئی تو ڈور ہے جو کھینچتی ہے!
کوئی تو ہاتھ ہے تاریک پردوں کے عقب میں
جو ہر ہارے ہوئے مہرے کو پھر سے چل رہا ہے
کوئی تو بھید ہے، جو کائناتوں کو نگل کر
ہماری ذات کی مٹھی میں چھپ کر ہنس رہا ہے!
یہ جو صدیوں پہ بھاری، اک ذرا سی بے قراری ہے
یقیناً...
کسی گہرے، کڑے اسرار کی پردہ داری ہے

0
2