| دل مرا ہے کہ ٹوٹا ہے کوئی بادل |
| آج رویا یا برسا ہے کوئی بادل |
| یادوں میں چھایا ہے دھندلا سا منظر بھی |
| جیسے خوابوں میں آیا ہے کوئی بادل |
| دشت ہستی ہوئی ہے پیاسی صدیوں سے |
| کب یہاں آ کے ٹھہرا ہے کوئی بادل |
| تم جو آئے تو مہکا ہے یہ موسم بھی |
| دل کے آنگن میں اترا ہے کوئی بادل |
| تیری آنکھوں نے دیکھا ہے یہ خوابِ تر |
| یا لے میں آ کے جھوما ہے کوئی بادل |
| المیر اب تو یہ عالم ہے کہ ہر لمحہ |
| اشک بن بن کے رویا ہے کوئی بادل |
معلومات