سرابِ دشتِ تمنا میں دن تو ڈھلتا ہے
مگر پہاڑ سا اک درد کب پگھلتا ہے
​درونِ ذات کی گہرائیوں میں جھانکوں تو
ذرا سی چاپ ابھرتی ہے، دل دہلتا ہے
​کسی کی آنکھ کے گوشے میں اک ستارے سا
کوئی تو اشکِ گراں بار سا مچلتا ہے
​گرا ہوا ہے مرا سائبانِ جاں لیکن
ترے گمان کے سائے میں یہ سنبھلتا ہے
​سیاہ رات کا آسیب یوں اترتا ہے
کہ اپنے جبڑے میں سارے دیے نگلتا ہے
​مسافروں کی طرح اجنبی سے رستوں پر
کوئی خیال ترا در بدر ٹہلتا ہے
​فریبِ وعدۂ فردا کے جھوٹے قصوں سے
یہ طفلِ دل مرے یارو کہاں بہلتا ہے

0
40