اچانک جو چھینے سہارے سفر میں
بجھا ڈالے میں نے ستارے سفر میں
مجھے تم بھنور میں اکیلا ڈبو کر
کھڑے ہنس رہے تھے کنارے سفر میں
کبھی تم نے رستہ دکھایا نہیں، تو
بھلا ڈالے میں نے اشارے سفر میں
حقیقت تمہاری سمجھ آ گئی ہے
نہیں چاہیے اب نظارے سفر میں
دیا جو بھی صدمہ، سہا میں نے ہنس کر
گلے سے لگائے خسارے سفر میں
تمہارے ارادے مجھے توڑنے کے
مرے حوصلوں سے ہیں ہارے سفر میں
عطا کر دیے تھے جو تم نے مجھے غم
بدن سے وہ سارے اتارے سفر میں
لہو کے گرے تھے جو قطرے زمیں پر
بنے ہیں وہی اب منارے سفر میں

0
8