فلک پر ہمارا ستارہ نہیں ہے
ہمارے سفر کا کنارہ نہیں ہے
​دلوں میں بسی ہے اسی کی محبت
کہ اس کے سوا کچھ نظارہ نہیں ہے
​جھکی ہیں نگاہیں حیا سے تمہاری
ہماری طرف اک اشارہ نہیں ہے
​یہ مانا کہ دنیا میں سب کچھ ملا ہے
ترے بن مگر اب گزارا نہیں ہے
​طبیبوں سے کہہ دو نہ زحمت اٹھائیں
ہمیں ہوش آنا گوارا نہیں ہے
​وفا کے عوض جاں لٹانا پڑی ہے
ہمارا تو اس میں خسارہ نہیں ہے
​رواجِ زمانہ عجب ہو گیا ہے
کسی بے نوا کو سہارا نہیں ہے
​بجھی جا رہی ہے حرارت دلوں کی
خودی کا کہیں اک شرارہ نہیں ہے
​چلے ہیں یہاں سے خموشی پہن کر
کسی نے ہمیں تو پکارا نہیں ہے

0
19