Circle Image

محمد اویس ماہی

@Awais33100

ادب خوشبو ہے۔

جو روٹھ گئے ان کو منانے سے کیا ہوگا
تم ہی کہو اب احساں جتانے سے کیا ہوگا
ہوتی ہے درختوں کی رونق ہرے پتوں سے
جو پیلے ہیں ان کے گر جانے سے کیا ہوگا
اس کو تو بچھڑنااب بچھڑے کہ کل بچھڑے
آنکھیں یوں کبوتر کی طرح کرنے سے کیا ہوگا

0
40
رونا بھی آتا نہیں ہے اور ہنسا جاتا نہیں
جا مریضِ عشق تیرا اب کوئی کھاتہ نہیں
ہوں میں زندہ ہے مگر یہ کیسی میری زندگی
سانس تو چلتا ہے لیکن سانس بھی آتا نہیں

0
27
اس طرح تو نے تعلق کو نبھایا ہوتا
بے وفائی کا سبب کچھ تو بتایا ہوتا
اب ہوا کم زر و کم ظرف، بے رو سا میں کاش
اس کی دنیامیں کوئی اور نہ آیا ہوتا
اپنے تو باغ میں تھا فصل خزاں سے ہی اجاڑ
کاش ویرانے میں طوفان نہ آیا ہوتا

0
36
ترا معیار پا نہیں سکتا
دیکھ کر زہر کھا نہیں سکتا
اس لیے خود سے عشق میں نے کیا
خود سے دھوکہ تو کھا نہیں سکتا
دور جا مجھ سے میں ہوں شادی شدہ
اس سے ناطہ چھپا نہیں سکتا

0
45
عشق ، عاشق ، عاشقی
عبد، عابد ، عابدی
حکم ،حاکم ،حاکمی
عجز ، عاجز ، عاجزی
قہر، قاہر، قاہری
صبر، صابر ، صابری

0
46
موسم پرت کے آئے مگر تم نہ مل سکے
سب تو جلے چراغ مگر دل نہ جل سکے
مجھ کو نہ چھوڑ جائے کہیں اس کی یاد اب
خطرے ٹلے ہیں سب ہی مگر یہ نہ ٹل سکے
آنگن میں اس کے پیڑ سناتے ہیں اپنا غم
آئیں بہاریں لاکھ مگر ہم نہ پھل سکے

0
35
قبلہ دنیا نے اسی سمت بنایا ہوگا
جس طرف یار نے گیسو کو جھکایا ہوگا
جس نے بے پردہ ترا رخ کبھی دیکھا ہوگا
تا عمر اس کو کبھی ہوش نہ آیا ہوگا
چاند اک ہو کے نہ تاروں کو کبھی سونے دے
کتنے تاروں کو مرے مہ نے جگایا ہوگا

0
34
اب نہیں ہوتی حیرت کسی چیز پر
اب تو حیرت کا مرکز مری ذات ہے
جام و بادہ بھی ہے وہ میسر بھی ہے
دل ہے پھر مضطرب تو کوئی بات ہے
پھولوں نے مجھ کو ہنستے ہوئے یہ کہا
اب کرو گریہ تم فصلِ برسات ہے

0
33
حق سے ملنے گئے با سراپا گئے
سیر کرنے گئے سیر کروا گئے
انبیاء کو پڑھا کے نماز اقصیٰ میں
ان کے سجدوں کو معراج دلوا گئے
مشتری زہرہ مریخ، تارے رکے
اور کشش کے تھے سارے ہی دھارے رکے

0
36
موسم کی مثل مجھ پہ تو آئے ہیں مصائب
خارج نہ ہوا پہلا کہ اک اور ملا ہے
قسمت میں تھا جو کچھ بھی ملا ہے وہ تو ہم کو
تم جو نہ تھے تقدیر میں کیا تجھ سے گلہ ہے
ہم کو بھی محبت کا کوئی شوق نہیں تھا
یہ شوقِ محبت بھی ترے رخ سے ملا ہے

0
32
ہم سے بھی عشق کوئی ماہی تو کرسکتا ہے
حسن پر اپنے کوئی ماہی تو مر سکتا ہے
جو نہیں ماہ جبیں ہم تو ہوا کیا ماہی
خلق اپنے سے دلِ ماہی جکڑ سکتا ہے
ہے بڑا پاس انھیں وعدے کا پر اے ماہی
نہ کیا وعدہ کوئی ماہی مکر سکتا ہے

0
49
نہ چھوڑا ہم نے اس کو جو کلیجے کو جلاتی ہے
چھوڑیں ہم کیوں اس کو جو ہمیں چائے پلاتی ہے

0
29
اے حسینانِ مُصِر مجھ کو نہ تم بہکاؤ
میں قلندر ہوں نہ یوسف ہوں نہ زاہد عابد

0
38
دلیلِ ذوقِ طبع کو مرے یہ بات کافی ہے
کہ تیرے بعد نظروں کو مری کوئی نہ رخ بھایا

0
59
وہ اور تھے جن کی پسلی سے نکلی حوّا
میری تو حوّا نے میری پسلی نکال دی

0
37
تر رکھتے ہیں اس لیے آنکھوں کو
لگ نہ جائے پھر آشوب کہیں

0
38
جس نے زبانِ منبعِ کوثر کو چوسا ہو
اسکو بھلا ہو حاجتِ آبِ فرات کیا

0
37
خاموشی ہے تنہائی ہے اور ہرجائی
یہ تین ملے اور غزل بن آئی
لرزیدہ سی تھی ڈوری مرے سانسوں کی
آیا جو خیال ان کا تو ہچکن آئی
قبل اس سے کوئی خواہشِ دوں وا ہوتی
تصویرِ صنم خیال سے دھندلائی

0
37
جب سے تو نے مرا لوگوں کو بتا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
شادی اک غم ہے مگر کیوں نہ کریں ہم شادی
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے
اس کی بیگم نے اسے کان پھڑائیں ہوں گے
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

0
47
پوچھتے ہو کہ میں چپ کیوں ہو
تیری باتوں سے اوقاتوں سے
چپ ہوں بس چپ
منصف کے انصاف سے
حاکم کے معیار سے
جاھل کے انکار سے

0
146
منبعِ فہم و فراست حیدرِ کرّار ہیں
کشتئ بحرِ حقیقت حیدرِ کرّار ہیں
مصطفیٰ نے سونپ دیں ہیں سب امانات آپ کو
قاسمِ فیضِ نبوت حیدرِ کرّار ہیں
کیا بتاؤں میں عبادت آپ کی کا حال کچھ
ذکر جن کا ہے عبادت حیدرِ کرّار ہیں

0
191
دن برے ہیں بھلے بھی آئیں گے
وہ چلے ہیں چلے ہی آئیں گے
جو پرندے سویرے ہی نکلیں
اب تو وہ دن ڈھلے ہی آئیں گے
آنکھ میں دھول ڈال جو نکلے
وہ دو آنکھیں ملے ہی آئیں گے

53
یہ سال بھی اس شخص کے جیسا نکلا
وہ شخص جو آیا، رکا، اور چل نکلا

0
66
کسے پتا تھا کہ ہو گے نہ تم اس گلستاں میں
نہ خبر تھی کریں گے نو حہ شبِ سالِ نو میں

0
67
آسماں پر رنگ و بو کا اک عجب احساس ہے
لگتا ہے جوّ کو بھی تیرے آنے کا ہی پاس ہے
کیوں زمیں خندیدہ سی ہے آسماں ترسیدہ سا
ان کو بھی تو آمدِ محبوب رب کی آس ہے
نہرِ نخلِ باغ جنت کی نہیں ہے آرزو
تیرے ہاتھوں جامِ کوثر پینے کی بس پیاس ہے

6
112
چرخ گرتا نہیں جو دیکھ کے میرے عصیاں
مجھ کو اس سے بھی تو کچھ تو نے چھپا رکھا ہے
ترےصدقے کہ ملائک کو دکھا کر مرے عیب
ان کے سر کو بھی مر ے آگے جھکا رکھا ہے
دائیں والا ہے نا واقف مری تقصیروں سے
کاتبِ اثم کی نظروں میں بھلا رکھا ہے

83
شعر کہنا مرا شعار نہیں
یوں سمجھنا نہ ہم کو پیار نہیں
تیری صورت پہ مخملی پردہ
ایسے پردے کا اعتبار نہیں
تیری تصویر دیکھتے رہنا
ہم کو اور کوئی کاروبار نہیں

64
مرے حبیب کو دائم زکام رہتا ہے
خیال ان کا جو دل میں ہی عام رہتا ہے
مرے سجود پہ ہے بت پرستی کا فتویٰ
دمِ سجود مرے دل میں رام رہتا ہے
حبیب میرا ہے اتنا فصیح مت پوچھو
خموش رہ کی بھی وہ ہم کلام رہتا ہے

53
ہمیں تو کسی نے بلایا نہیں ہے
کسی کو تو ہم نے ستایا نہیں ہے
مرے دل کا غم تو نے جب سے نہ پوچھا
کسی کے بھی پوچھے بتایا نہیں ہے
مرے دل میں دلبر جو آ کر تو دیکھو
یہ وہ گھر ہے جس کا کرایہ نہیں ہے

56