Circle Image

محمد طیب

@Mtaiyab

آندھیوں میں چراغ لیکر میں* جس طرف تھی ہوا ادھر بیٹھا

چراغ ہم نے جلائے ہیں جو یہاں پہ ابھی
ستارے لڑنے لگے ہوں گے آسماں پہ ابھی
نظر میں آنے لگا میں بھی اب زمانے کے
چلا ہوں ایک قدم عشق کے نشاں پہ ابھی
اسی خیال میں بیٹھا رہا وہ موت تلک
کسی دوا کا اثر ہوگا بدگماں پہ ابھی

0
1
ہر گلی ہر گھر سجاؤ یومِ آزادی ہے آج
گیت خوشیوں کے سناؤ یومِ آزادی ہے آج
ہندو مسلم سکھ عیسائی ہاتھ ڈالے ہاتھ میں
جشن آزادی مناؤ یومِ آزادی ہے آج
آسمانِ ہند کا ہر اک ستارہ لاجواب
ساتھ ملکر جگمگاؤ یومِ آزادی ہے آج

0
10
کھُل کے رہیے آپ کے دل کی کلی کھل جائے گی
سونی برسو سے پڑی ہے جو گلی کھل جائے گی
اس نے گر بے بس کیا ہے اس کی مرضی جو کرے
میں اگر راضی رہا تو بے بسی کھل جائے گی
شہر بھر سے واقفیت لازمی ہرگز نہیں
میں اسے جانوں وہ مجھکو زندگی کھل جائے گی

0
13
جا اکیلے میں بیٹھ کر رولے
قلب کو آنسوؤں سے اب دھولے
ناخداؤں نے چھوڑ دی کشتی
اس لیے کھارہی ہے ہچکولے
بھائی دشمن بنا ہے بھائی کا
زہر رشتوں میں کس نے ہیں گھولے

0
15
زندہ ہوں زندگی سے کوئی واسطہ نہیں
اپنوں سے میرا خاص کوئی رابطہ نہیں
دھوکے سے لکھ دیا گیا حرفِ غلط ہوں کیا؟
رب جانتا ہے کیا ہوں مجھے کچھ پتہ نہیں
منزل ہے راستہ ہے مگر بال و پر نہیں
رب ہے مرا تو کیسے کہوں آسرا نہیں

0
46
محبت یا تو بالکل فنا کردیتی ہے یا سرسبزوشاداب

0
47
بھروسہ انسان کو حد سے زیادہ مضبوط یا پھر حد سے زیادہ کمزور بنادیتا ہےمحمد طیب برگچھیاوی 

0
41
بھلا کرے نہ کسی کا تو آدمی کیا ہے
کسی کے کام نہ آئے تو زندگی کیا ہے
سروں کو مارتے رہنا بھی بندگی ہے بھلا
جھکاؤ دل تو سمجھ آئے بندگی کیا ہے
جہاد عشق سے لوٹا نہیں کوئی غازی
شہیدِعشق ہی جانے ہے عاشقی کیا ہے

0
36
اب تو بس بے خودی سی رہتی ہے
جانے کیوں بے بسی سی رہتی ہے
کھل کے جینا ہی بھول بیٹھا ہوں
اب طبیعت بجھی سی رہتی ہے
میل چشمے پہ جم گیا ہو تو
ہر طرف گندگی سی رہتی ہے

39
کیا ؟ محبت میں خسارہ ہے مجھے
چل خسارہ بھی گوارا ہے مجھے
اک نظر جس کو میں بھایا ہی نہیں
جانے کیوں جان سے پیارا ہے مجھے
پھر سے مرنا ہے مجھے زندہ کر
اے خدا اس نے پکارا ہے مجھے

0
90
اب بھی میرے ذہن میں بیتے کل کا اثر پوشیدہ ہے
دھندلائی سی یادوں میں وہ زیر و زبر پوشیدہ ہے
ٹوٹے بکھرے ملبوں میں دیکھو نا کدھر پوشیدہ ہے
ڈھونڈے ہیں نظریں جس کو وہ پیار کا گھر پوشیدہ ہے
میرے قد کو آنک رہے ہو میری خاموشی سے پر
جب تک میں خاموش کھڑا ہوں میرا ہنر پوشیدہ ہے

0
72
راستے میں کبھی میں رکا ہی نہیں
تیز آندھی چلی پر جھکا ہی نہیں
عشق کیا ہے بتاتا ہوں میں آپ کو
درد ایسا ہے جس کی دوا ہی نہیں
میری خاموش فطرت سے دھوکا نہ کھا
سامنے میرے کوئی ٹکا ہی نہیں

0
50
وہی زخم پھر سے ستانے لگے ہیں
جنہیں سوکھنے میں زمانے لگے ہیں
جنہیں بے وفائی کا تمغہ ملا ہے
وہی اب ہمیں آزمانے لگے ہیں
غلامی کی ایسی لگی ہم کو عادت
یوں ہی بے وجہ سر جھکا نے لگے ہیں

1
68
مجھ کو ساحل بھی وہ ساحل نہ لگا
میری کشتی کے جو قابل نہ لگا
جل گئے مجھ سے ستم گر سارے
ان کو یہ دل کبھی بے دل نہ لگا
اس کو دولت نے بنایا کامل
ہوکے جاہل بھی وہ جاہل نہ لگا

0
113
میں تو تیرا اپنا تھا
کیا یہ میرا سپنا تھا؟
رستہ چاہے سیدھا تھا
پر کہرا تو گہرا تھا
باتیں جھوٹی تھیں تو تھیں
لہجہ لیکن اچھا تھا

0
98
پانی کا بلبلہ ہے تری حیثیت ہے کیا
قطرہ ہے گندگی کا تری اہمیت ہے کیا
رب کا تھا حکم سر کو جھکانا سو جھک گئے
ذروں کو نور پر بھی کہیں فوقیت ہے کیا
مولیٰ کا ہے کرم کہ خلیفہ ہے تو مگر
خاکی ہے تیری اوربھلا خاصیت ہے کیا

0
82
تپ کے انگار پہ ذرہ بھی چمک جاتا ہے
پھر بھی انسان تو محنت سے جھجک جاتا ہے
ہم نے کانٹوں کو مہکتے ہوئے دیکھا یاروں
پھول تو پھول ہے اگتے ہی مہک جاتا ہے
سوچتا ہوں کہ دیا ایسا تلاشوں جس کے
سامنے آ تے ہی طوفان ٹھٹک جاتا ہے

67
یہ دائمی کتاب مٹا پاؤگے کہاں
دل میں ہے عاشقوں کے جلا پاؤگے کہاں
آندھی سے کہہ رہا ہے یہ جلتا ہوا چراغ
فانوس ہے خدا تو بجھا پاؤگے کہاں
بنیاد میں لگی ہو محبت کی اینٹ تو
دیوار ایسے گھر کی ہلا پاؤگے کہاں

0
75
بھلا وہ زندگی بھی زندگی ہے
جہاں پر تیرگی ہی تیرگی ہے
جسے پردیس جاکر ڈھونڈ تے ہو
تمہارے دیس میں ہی وہ خوشی ہے
امارت کا نشہ بتلا رہا ہے
بسی دل میں ابھی تک مفلسی ہے

0
98
صاحبوں سے خیال پوچھا تھا
ہم پہ کیوں ہےوبال ہے پوچھا تھا
میرے اپنے بھڑک گئے مجھ پر
خون میں ہے ابال؟ پوچھا تھا
لوٹنے والا کون تھا یارو
چور یا کوتوال پوچھا تھا

0
102
زندگی مختصر ہے مگر  دائمی بھی ہو سکتی ہے اگر آپ لوگوں کے دلوں پر اپنا چھاپ چھوڑ دیں

98
محفل میں آواز لگائی جاتی ہے
بے مطلب کی بات سنائی جاتی ہے
فرصت کس کے پاس ہے ملنے جلنے کی
مجبوراً اب رسم نبھائی جاتی ہے
پہلے ڈر تھا پتھر کا اب خوف نہیں
شیشے کی دیوار بنائی جاتی ہے

2
117
ایسے ہر پیڑ کو جڑ سے ہی اکھڑ جانا ہے
جس نے ٹھانی ہے کہ آندھی میں اکڑ جانا ہے
اپنی جاگیر سمجھنا نہ کبھی ٹہنی کو
پتیوں شاخ سے تم سب کو ہی جھڑ جانا ہے
میں نے دنیا کو فقط اتنا ہی جانا لوگوں
بے وفا یار ہے آخر کو بچھڑ جانا ہے

2
173
بنا کر مجھے پہلے پرکھا گیا
فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا
ملی مجھ کو پہلی خطا کی سزا
بہشتِ بریں سے نکالا گیا
لیے ہاتھ میں تیشہ امید کا
پہاڑِ مصیبت کو ڈھاتا گیا

0
1
118
کیا بتاؤں کیسے جیتا ہوں سوائے آپ کے
دل کے زخموں کو میں سیتا ہوں سوائے آپ کے
درد منزل ہوگی میری کیا پتہ تھا یہ مجھے
غم جدائی کا میں پیتا ہوں سوائے آپ کے
جو پڑھے مجھ کو وہ روئے غم کی ہوں میں داستاں
درد کی کوئی کویتا ہوں سوائے آپ کے

0
134
پوچھتی ہے ہم سے دنیا آپ کیا کرتے رہیں
ہم تو دیوانے ہیں انکا تذکرہ کرتے رہیں
اپنے ہونٹوں پر سجا کر اسم اعظم ہر گھڑی
خوب آسانی سے سر ہر راستہ کرتے رہیں
حق ادا ہو بندگی کا یہ تو ممکن ہی نہیں
چاہے بیٹھے عمر بھر انکی ثنا کرتے رہیں

0
86
دل جو بیمار ہے شاعری کیجیے
غم سے دوچار ہے شاعری کیجیے
راستہ چاہے ہموار ہے یا صنم
راہ دشوار ہے شاعری کیجیے
غم کی واحد دوا دل جلے عاشقوں
بے وفا یار ہے شاعری کیجیے

0
134
جہاں میں پھیلی ہوئی جو وفا کی خوشبو ہے
حرا سے آئی تھی جو اس صدا کی خوشبو ہے
دبا رہا ہے زمانہ اسے زمانے سے
نہ دبنے پائیگی رب العلٰی کی خوشبو ہے
تمہارے شہر نے سر سے اتار دی چادر
ہمارے گاؤں میں اب بھی حیا کی خوشبو ہے

183
لائی غربت اب سر بازار ہے
میں سوالی اور ترا دربار ہے
شہر جاناں سے بنا لو دوریاں
جو گیا وہ آج تک بیمار ہے
چڑھ گیا عشق کا اس پر بخار
اب دوا ہو یا دعا بیکار ہے

0
115
محبت ہوگئی ہے کیا کسی سے
. پئے جاتے ہو غم کو بھی خوشی سے
چلو چل کر کے دیکھیں آسماں پر
ستارے کھیلتے ہیں روشنی سے
سنا اس نے مجھے ایسے کہ جیسے
میں باتیں کر رہا ہوں اجنبی سے

0
132
زندگی کے لطف کا ادراک کرنے کے لیے
عشق کرنا چاہیے دل پاک کرنے کے لیے
سچ میں پیدا ہو اگر احساس تو کافی ہے یہ
پردۂ غفلت کو دل سے چاک کر نے کے لیے
کرکے ہمت بڑھ خدا کے فضل سے چمکے گا تو
جتنی کوشش کرلے دنیا خاک کرنے کے لیے

0
233
تجھ پہ اب اعتبار کون کرے
یہ خطا بار بار کون کرے
دل دکھا کر قریب آتا ہے
دور جا تجھ سے پیار کون کرے
تیرے وعدوں پہ دل سے کرکے یقیں
خود کو ہی شرمسار کون کرے

0
144
پیغامِ وصلِ یار مرے گھر میں آگیا
دیکھو سفید بال مرے سر میں آگیا
جھک جائیگا فلک بخدا تیرے سامنے
پرواز کا ہنر جو ترے پر میں آگیا
حاسد جلیگا موت تلک سوچ سوچ کر
کیسے کوئی بھی میرے برابر میں آگیا

0
101
در ترا چھوڑ کے دیوانہ کدھر جائے گا
ساتھ تیرا جو اگر چھوٹا تو مر جائے گا
لہلہاتے ہوئے کھیتوں نے سکھایا مجھکو
خود کو جس وقت مٹائیگا ابھر جائے گا
رابطہ اپنے بڑوں سے تو بنائے رکھنا
اپنے اسلاف سے کٹ کر تو بکھر جائے گا

0
83
نہ وہ فصل فصلِ بہار تھی نہ تو عشق تھا نہ ہی پیار تھا
وہ خطا تھی میری ہی سونچ کی مجھے عاشقی کا بخار تھا
اسے آسرا جو سمجھ لیا یہ قصور میرے ہی دل کا ہے
جو گرا سمجھ میں یہ آگیا کہ فقط ہوا پہ سوار تھا
تھی تلاش مجھکو سکون کی میں غلط پتے پہ پہنچ گیا
جو ملا مجھے وہ سراب تھا، نہ سکون تھا نہ قرار تھا

0
118
محبت کی کہانی لکھ رہا ہوں
وبا کتنی پرانی لکھ رہا ہوں
نگاہیں اشک سے بھیگی ہوئی ہیں
بھٹکتی زندگانی لکھ رہا ہوں
ہوس نے عشق کی اوڑھی ہے چادر
بگڑتی نو جوانی لکھ رہا ہوں

0
144
سنو محبوب چلّاتا ہے میرا
مرے مرجائے کیا جاتا ہے میرا
نہ جانے کیوں مدد کردوں میں جس کی
وہی ہر کام اٹکا تا ہے میرا
پنپنے کی ذرا کرتا ہوں کوشش
زمانہ پر کتر جاتا ہے میرا

0
84
سونچ سمجھ کر بولو بچوں
منہ نہ ایسے کھولو بچوں
صبح سویرے اُٹھ جاؤ تم
اٹھتے ہی منہ دھولو بچوں
ناخن کاٹو بال بناؤ
صاف ہمیشہ ہولو بچوں

0
165
اس نئے دور میں ہر درد کو راحت لکھیے
عزّتیں لٹتی ہیں لٹ جائیں ، حفاظت لکھیے
بات اتنی سی قلم کاروں سے کہنی ہے مجھے
حق اگر لکھ نہیں سکتے ہیں تو کچھ مت لکھیے
جھوٹ، دھوکہ ہو حسد ، لڑنا ، لڑانا ، چوری
سب کو اک ساتھ اگر لکھیے ، سیاست لکھیے

0
1
146
مصائب سے نکلنے کی چلو تدبیر کرتے ہیں
جلے ہیں آگ میں تو خود کو ہی شمشیر کرتے ہیں
جھکائے سر جو بیٹھا ہوں تو نہ ذرہ سمجھ لینا
سنو ہم آسماں کو فرش سے تعبیر کرتے ہیں
جہاں والوں پہ تکیہ سوچ کر کرنا کہ اکثر یہ
مسائل حل نہیں کرتے ہیں بس تقریر کرتے ہیں

0
117
ضمانت چھین لی رب نے حفاظت چھین لی رب نے
جہاں میں سب پریشاں ہیں حمایت چھین لی رب نے
بلانے پر نہ آتے تھے بہانے ہم بناتے تھے
مسلمانوں نمازِ باجماعت چھین لی رب نے
اذانیں روز ہوتی تھیں مگر ہم سوئے رہتے تھے
اذانیں چھین لی رب نے ثقافت چھین لی رب نے

77
مجھ سے ملنے میں صنم رسوائیوں کا خوف تھا
آپ کو توبھیڑکی پرچھائیوں کا خوف تھا
دشمنوں کی چال سے مجھ کو نہیں لگتا تھا ڈر
نا سمجھ کی کی ہوئی اچھائیوں کا خوف تھا
ہم سمندر پار کر لیتے تھے یوں ہی تیر کر
موج کا نا تو ہمیں گہرائیوں کا خوف تھا

0
131
ہر شئی سے شیتل ہے قرآنِ اکرم
رحمت کا بادل ہے قرآنِ اکرم
پاگل ہی کہتا ہے قرآں کو ناقص
کامل ہے اکمل ہے قرآنِ اکرم
جو چاہے پڑھنا وہ پڑھ لے یقیناً
آسان و اسہل ہے قرآنِ اکرم

0
122
کالے بادل کو صنم رخ سے ہٹا دیتے ہیں
اس طرح دل میں لگی آگ بجھا دیتے ہیں
دلنشیں انکی ادائیں ہیں، نگاہیں قاتل
زخم دل پر وہ نگاہوں سے لگادیتے ہیں
ہم نے منزل پے پہنچنے کی قسم کھائی ہے
آندھیوں میں بھی قدم اپنا بڑھا دیتے ہیں

0
170
تھوڑا مشکل تھا مگر زخم سنبھالے ہم نے
درد میں ہنس کے ہی ایام نکالے ہم نے
اب ہمیں فکر نہیں جو بھی ہو بہتر ہوگا
خود کو جب کر ہی دیا رب کے حوالے ہم نے
پوچھنے حال کوئی رات میں آیا ہی نہیں
دیگ پانی سے بھرے کتنے ابالے ہم نے

0
163
پنچایت کے لوگوں نے اس بار یہ ملکے ٹھانا ہے
اب کی بار تو مکھیا پد پے سیف خان کو لانا ہے
ہر گھر کو ہے روشن کرنا ہر بچے کو پڑھانا ہے
علم و ہنر کا دیپ نگر کے ہر ہر گھر میں جلانا ہے
اب کی بار تو مکھیا پد پے سیف خان کو لانا ہے
بجلی، پانی چھت اور روٹی ، پہلا مشن ہمارا ہے

0
157
ضلالت تو ہے ہی حقیقت میں آگ
ولی نے لگائی ولایت میں آگ
بھروسہ وفا پر بھی ہوتا نہیں
صداقت، شرافت ، اطاعت میں آگ
کبھی دشمنوں میں بھڑکتی تھی پر
بھڑکتی ہے اب تو اخوت میں آگ

0
191
گزرگاہِ محبت میں بہت بیمار بیٹھے ہیں
پتنگے جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں
دلوں کو موہ لیتے ہیں جو اپنی پیاری باتوں سے
چھپاکر آستینوں میں وہی تلوار بیٹھے ہیں
غریبوں سے چراکر مالداروں کو کھلاتے ہیں
ہمارے شہر میں ایسے کئی دلدار بیٹھے ہیں

202
دریا جو سمندر سے مل جائے امر ہوگا
مضبوط جڑیں ہوں تو مضبوط شجر ہوگا
غیروں کے بھروسے پر بھٹکو گے بھلا کب تک
اپنا ہو اگر رہبر محفوظ سفر ہوگا

0
167
سن تو ذرا کرم کی آواز آ رہی ہے
روٹھے ہوئے صنم کی آواز آ رہی ہے
تم کیوں نہ آئے ملنے ہم کو صنم منانے
پیاری سی چشمِ نم کی آواز آ رہی ہے
فرقت تو ہوگی لمبی اب منتظر رہو تم
پھر سے نئے الم کی آواز آ رہی ہے

137
کیا اثر ہوتا ہے بے بس کی دعا کا دیکھنا
حوصلہ ٹوٹے گا ظالم ناخدا کا دیکھنا
پیڑ جو اکڑا ہوا ہے کوئی اسکو دے بتا
توڑ ہی دیگا تجھے جھوکا ہوا کا دیکھنا
روز سورج سوچتا ہے آج میرا راج ہے
خون روتا ہے ذرا منظر مسا کا دیکھنا

3
227
لگا ہوں جس کو مصیبت سے میں بچانے میں
وہی لگا ہے مری مشکلیں بڑھانے میں
لگے ہیں یار مرے گھر مرا جلانے میں
مرے دیار سے مجھ کو ہی اب بھگانے میں
غموں نے گھیر لیا درد ہے مصیبت ہے
لگے ہو تم تو فقط حال ہی سنانے میں

258
بادل سے پیار برسے بس اتنا چاہتے ہیں
نفرت مٹے ڈگر سےبس اتنا چاہتے ہیں
بیٹی رہے سلامت ہر گھر کی ہو حفاظت
شیطان کی نظر سے بس اتنا چاہتے ہیں
ظالم ہو جو درندہ تھرّائے کپ کپائے
انسانیت کے ڈر سے بس اتنا چاہتے ہیں

0
116
ذرا ہوا سے اتر، آ زمیں پے آکر دیکھ
کبھی تو یار کسی کو تو مسکرا کر دیکھ
ملے گی تجھ کو خوشی دل کا بوجھ کم ہوگا
کسی غریب کو سینے سے تو لگا کر دیکھ
بہت غرور ہے تجھکو تری بلندی پر
اے آسمان ذرا مجھکو آزما کر دیکھ

0
162
ترقی دیش کی یوں ہو رہی ہے
بہن ماں اور بیٹی رو رہی ہے
درندے گھومتے ہیں راستوں میں
قفس میں پیاری بلبل سو رہی ہے
جو کہتے ہیں بچاؤ بیٹیوں کو
خطا ان سے ہی سرزد ہو رہی ہے

0
154
حق بات سرِ بزم سناکر گیا ہے وہ
آئینہ حقیقت کا دکھا کر گیا ہے وہ
بے باک، نڈر، الفت و چاہت کا پیمبر
سارے جہاں کو جینا سکھا کر گیا ہے وہ

0
138
سارے عالم کو رلا کر چل دئیے حضرت امیں
سوئے جنت مسکراکر چل دئیے حضرت امیں
دین کی خاطر کھپا دی آپنے یہ زندگی
دعوتِ حق کو سجا کر چل دئیے حضرت امیں
نیک سیرت خوش مزاج و حق کے داعی آپ تھے
زندگی جینا سکھا کر چل دئیے حضرت امیں

0
170
زمیں پر آسماں تیرا اترنا اب ضروری ہے
گھمنڈی ہو گیا ہے تو سدھرنا اب ضروری ہے
بہت تم نے دکھا دی اے سمندر اپنی طغیانی
تمہارا آکے ساحل پر بکھرنا اب ضروری ہے
جلا کر شہر وہ آرام سے بیٹھے ہیں گدی پر
سبھی ظالم کا گدی سے اترنا اب ضروری ہے

0
171