اب تو بس بے خودی سی رہتی ہے
جانے کیوں بے بسی سی رہتی ہے
کھل کے جینا ہی بھول بیٹھا ہوں
اب طبیعت بجھی سی رہتی ہے
میل چشمے پہ جم گیا ہو تو
ہر طرف گندگی سی رہتی ہے
کتنے چہرے ہیں ایک چہرے پر
معرفت اجنبی سی رہتی ہے
شر پسندوں کا بول بالا ہے
اب شرافت دبی سی رہتی ہے
جھوٹ کی ہر طرف حکومت ہے
سچ کی گردن جھکی سی رہتی ہے
دل میں اخلاص ہو اگر طیب
ہر طرف روشنی سی رہتی ہے

6