بنا کر مجھے پہلے پرکھا گیا
فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا
ملی مجھ کو پہلی خطا کی سزا
بہشتِ بریں سے نکالا گیا
لیے ہاتھ میں تیشہ امید کا
پہاڑِ مصیبت کو ڈھاتا گیا
چراغِ محبت جلائے ہوئے
چمن سے اندھیرا بھگاتا گیا
جہاں سے گزر نا سکے قافلے
اسی راستے سے میں تنہا گیا
بہشت بریں میں مجھے دیکھ کر
کہیگا خدا بندا گھر آگیا
بھلا تو بھی طیب ہے انسان کیا
ذرا سی مصیبت سے گھبرا گیا

0
1
107
اگر سمجھ میں آئے تو دعا میں یاد رکھیں

0