Circle Image

حمادحیدرنقوی

@1472

کاروان ادب فیصل آباد

حقیقت میں نہیں ملتے مگر خوابوں میں زندہ ہیں
پرانے لوگ اچھے تھے ابھی یادوں میں زندہ ہیں
ابھی زنجیر کھینچو مت ابھی منزل پے پہنچا ہوں
ابھی چھالے مسافت کے مرے پیروں میں زندہ ہیں
مرے کردار کے قصے مرے یاروں سے پوچھو تم
مرے کردار کے قصے مرے یاروں میں زندہ ہیں

22
سنو مجھ سے مصیبت میں کوئی امید مت رکھنا
ضرورت نام کے رشتے بنایا میں نہیں کرتا
جو دیکھوں آنکھ سے اپنی اسی پر بات کرتا ہوں
پرائی آنکھ پر چشمہ لگایا میں نہیں کرتا
مجھے انصاف چاھیے تھا سو رستے پر نکل آیا
کہ ہر اک بات پر لیڈر بنایا میں نہیں کرتا

101
```نہیں اب فائدہ کچھ بھی ہمارے زخم بھرنے سے
بچا ہے زندگی میں کیا ترے انکار کرنے سے
زمیں کے قد برابر ہیں یہاں چھوٹے بڑے سارے
برابر ہو نہیں جاتے یہاں انسان مرنے سے
اجالے دو جہانوں میں خدا کی ذات بانٹے گی
اندھیرا دور ہو جائے گا اک جگنو ابھرنے سے

60
تھی تمنا جن کی لاحاصل وہ حاصل تک نہ پہنچے
کشتیاں اپنی بناتے تھے جو ساحل تک نہ پہنچے
آپ نے مرشد ہمیں ہجرت کرائی تھی وطن سے
آپ کے بھیجے ہوئے بھی لوگ منزل تک نہ پہنچنے
بھوک سے لڑ کر خودی مر جائے گی یہ قوم ساری
آپ کی امداد دو دن اور سائل تک نہ پہنچے

37
طہٰ و یاسین کے پارے ہیں یہ الحمد کے وارث
کہ خالق کو بہت پیارے ہیں یہ الحمد کے وارث
سبھی ناطق سبھی قرآن کے قاری سبھی حافظ
کہ بارہ نور کے دھارے ہیں یہ الحمد کے وارث
زمیں کے راز ہوں یا آسماں کی بات ہو کوئی
حقیقت جانتے سارے ہیں یہ الحمد کے وارث

39
ایسا وعدہ بھی نہ مانگو جو نبھاؤں گا نہیں
میں چلا جب تیری دنیا سے تو آؤں گا نہیں
مجھ کو خاطر میں نہ لانے کا اسے جو وہم تھا
وہم یہ تھا کے میں گھر اپنا بساؤں گا نہیں
لاکھ ہوریں ہوں مقدر میں مگر تم سی نہیں
ساتھ حوا تیرا جنت میں بھلاؤں گا نہیں

58
ذرا سا شک بھی گزرے تو یقیناً مار دینا
وہ غیروں کا جو سوچے تو یقیناً مار دینا
جوانی کی قسم دے کر وہ ظالم جھوٹ بولے
اگر اس بار بولے تو یقیناً مار دینا
تمہاری یہ زباں تلوار سے بھی تیز تر ہے
اگر یہ سر نہ کاٹے تو یقیناً مار دینا

53
حیا نے اس کی آنکھوں کو بنایا منفرد ہے
کہ پلکوں پر یہ تل ظالم بٹھایا منفرد ہے
پکارا کیجئے دن میں ہزاروں بار مجھ کو
حسیں ہونٹوں پے میرا نام آیا منفرد ہے
سبھی کو دو عدد کر کے بنایا ہے خدا نے
اکیلی ذات کا خود دکھ اٹھایا منفرد ہے

64
ولائے حیدر کا جام پائیں ہماری مائیں
جہاں میں کوئی نہ دکھ اٹھائیں ہماری مائیں۔۔۔
جو اپنے بچوں سے ماں دکھی ہے خدا دکھی ہے
یہ اپنے دکھ میں بھی خیر چاھیں ہماری مائیں۔۔۔
خدا کے گھر سے یہ ایک تحفہ ہمیں ملا ہے
خدا کرے کہ نہ لوٹ جائیں ہماری مائیں۔۔۔

58
یہ دل کا دامن اسیر لوگوں سے بھر گیا ہے
زمیں کا ٹکڑا امیر لوگوں سے بھر گیا ہے
کسی کے کھانے کی میز پر زہر کی ہے شیشی
یہ قاسہ مردہ ضمیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔
جناب۔اصغر ع کی اک سفارش پہ میں نے دیکھا
بہشت سارا صغیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔

196
علی کے بچوں نے کربلا کو مثال ایسی بنا دیا ہے
ازل سے لے کر ابد تلک کو نظام۔ ظالم مٹا دیا ہے
مٹانے آیا تھا رب کی شاہی سنا ہے کوئی یزید تھا وہ
حسین رن میں خدا کا رتبہ مزید تو بڑھا دیا ہے
وہ جس کا مقصد تھا پاک زینب کے گھر کی رونق بہال کرنا
حسین تیری سخاوتوں نے جوان ایسا لٹا دیا ہے

52
تمہارے در سے شعور مجھ کو عطا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا
خدا کے ہونے سے میرا ہونا خدا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔۔
سکون جنت میں دونوں کرتے خطا نہ آدم کہ سر پہ آتی
جو نار۔ابلیس کا وہ سجدہ قضا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔
یوں بعد مرنے کہ مجھکو زندہ کیا ہے سارے جہاں میں تو نے
جو تیرے ہونٹوں پے آج میرا گلہ نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔

52
لگے ہاتھ پیسہ تو یہ مہنگا خرید لے
تھا بھائی کا دل بہن کا کرتہ خرید لے
خدایا اسے تو اتنا تو رزق کر عطا
کہ بیٹی کا باپ اچھا رشتہ خرید لے
غریبی نے سر اٹھا کے دولت سے یہ کہا
ابھے جا کسی امیر کا گردہ خرید لے

43
وہ دل سے میرے اتر گیا ہے جو نقش پہلے بنا ہوا تھا
اندھیری شب میں میں قافلے کا غبار لے کے چلا ہوا تھا
ہوا جو روشن یہ دل کا دامن تو مجھکو جیسے سکون آیا
یہ رستہ کب سے انا پرستی کی بھینٹ چڑھ کے رکا ہوا تھا
خدا کی قدرت نے وقت بدلا تو بھیڑ بن کر قریب آئے
وہ سارے اپنے میں جن میں تنہا اداس ہو کر کھڑا ہوا تھا

21
یہ ایک تو اس کے دور جانے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے
کہ اس کی آنکھوں پے میری آنکھوں کا پورا ترکہ لگا ہوا ہے
نہ کاٹ جڑ سے کہ وقت لے کے یہ خشک شاخیں جنے کی پتے
کہ ان درختوں کو پھل کے گرنے کا یار صدمہ لگا ہوا ہے
یہ کیا کے دھڑکن میں بے سکونی سی بے سکونی امڈ رہی ہے
یہ کیا کے گرمی کے سخت موسم میں سرد دھڑکا لگا ہوا ہے

0
55
غزل۔۔حمادحیدرنقوی
وقت کس کے پاس تھا جو گہری کانیں کھودتا
میں کوئی فرہاد تھوڑی تھا جو نہریں کھودتا
خاندانی دشمنی کی آگ نسلوں تک چلی
میں اگر انکار نا! کرتا تو قبریں کھودتا
کیا خبر پانی کے نیچے زندگی کا راز ہو

24
یہی دکھ تو مری پلکوں کے پر نمکین کرتا ہے
اجالا بخت کو کیونکر نہیں نورین کرتا ہے
سخاوت قوم پر میری کوئی بے دین کرتا ہے
یہ خالی پیٹ مذہب کی بڑی توہین کرتا ہے
کہیں عیسیٰ کہیں اللہ کہیں پر رام کا جھگڑا
یہاں ہر ایک اپنے دین کی تلقین کرتا ہے

66
وطن سے دور جانے کی حماقت کیوں کریں گے
جنہیں روزی میسر ہے وہ ہجرت کیوں کریں گے
ملے گی آبلہ پائی محبت کے سفر میں
بھلا ایسے سفر کی آپ حسرت کیوں کریں گے
کبھی تو ترس کھائیں گے وہ میرے زود را پر
گلے مل کر مجھے ہر بار رخصت کیوں کریں گے

31
نقاب۔قدرت کو اوڑھ کر وہ سڑک کنارے کھڑا ہوا ہے
یتیم بچی کہ خشک لب پے خدا کا چہرہ بنا ہوا ہے۔۔۔
بلا کی سر پے مصیبتیں ہیں قضا کا خدشہ بھی ہو رہا ہے
نصیب حسرت کے عین درجے پے آ کے جیسے رکا ہوا ہے۔۔۔
میں ایک قطرہ مثال میری بھی کیا کہ سارا پلید تھا میں۔۔۔
خدا نے پھر بھی عبادتوں میں مجھے یہ درجہ دیا ہوا ہے۔۔۔۔

25
خامشی تجھ کو کہاں چاہتے ہیں
یہ جو دکھ ہیں یہ زباں چاہتے ہیں
کس بہانے سے گزاریں اسے ہم
زندگی تجھ سے زیاں چاہتے ہیں
دور جانے کا ارادہ نہیں ہے
ساتھ چلنا بھی کہاں چاہتے ہیں

43
اس لئے تو اکثر اس میں قومیں ضائع ہو جاتی ہیں
نشے میں دیکھو کتنی نسلیں ضائع ہو جاتی ہیں
تم بھی یوسف کے والد کا قصہ پڑھ کے دیکھو تو
ہجر میں رونے والوں کی آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں
بے عقلوں کی محفل سے تو بہتر یہ خاموشی ہے
بے عقلوں کی محفل میں باتیں ضائع ہو جاتیں ہیں

29
تو مرے دکھ میں شراکت بھی نہیں کر سکتا
یعنی ملنے کی عنایت بھی نہیں کر سکتا
ہم وطن تجھ سے شکایت بھی کریں گے لیکن
بے وطن تجھ سے شکایت بھی نہیں کر سکتا
آؤ نفرت کو سلیقے سے ادا کرتے ہیں
آدمی اتنی محبت بھی نہیں کر سکتا

36
جنہیں روزی میسر ہے وہ ہجرت کیوں کریں گے
ہمیں تم سے محبت ہے تو نفرت کیوں کریں گے
ملے گی آبلہ پائی محبت کے سفر میں
بھلا ایسے سفر کی آپ حسرت کیوں کریں گے
کبھی تو ترس کھائیں گے وہ میرے زود را پر
گلے مل کر مجھے ہر بار رخصت کیوں کریں گے

29
حیا نے اس کی آنکھوں کو بنایا منفرد ہے
کہ پلکوں پر یہ تل ظالم بٹھایا منفرد ہے
پکارا کیجئے دن میں ہزاروں بار مجھ کو
حسیں ہونٹوں پے میرا نام آیا منفرد ہے
سبھی کو دو عدد کر کے بنایا ہے خدا نے
اکیلی ذات کا خود دکھ اٹھایا منفرد ہے

54