تمہارے در سے شعور مجھ کو عطا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا
خدا کے ہونے سے میرا ہونا خدا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔۔
سکون جنت میں دونوں کرتے خطا نہ آدم کہ سر پہ آتی
جو نار۔ابلیس کا وہ سجدہ قضا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔
یوں بعد مرنے کہ مجھکو زندہ کیا ہے سارے جہاں میں تو نے
جو تیرے ہونٹوں پے آج میرا گلہ نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔
خلاف میرے گواہی دیں گے یہ ہاتھ میرے یہ پاؤں میرے
جو دو قدم بھی خدا کی جانب چلا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا۔۔۔۔
شہید ہو کر تمہاری آنکھوں سے جانے جاناں میں جی اٹھا ہوں
یہ اشک بن کر زمیں پہ حیدر گرا نہ ہوتا تو میں نہ ہوتا

52