تھی تمنا جن کی لاحاصل وہ حاصل تک نہ پہنچے
کشتیاں اپنی بناتے تھے جو ساحل تک نہ پہنچے
آپ نے مرشد ہمیں ہجرت کرائی تھی وطن سے
آپ کے بھیجے ہوئے بھی لوگ منزل تک نہ پہنچنے
بھوک سے لڑ کر خودی مر جائے گی یہ قوم ساری
آپ کی امداد دو دن اور سائل تک نہ پہنچے
لوگ ڈر ڈر کے گھروں میں قید رہتے تھے کئی دن
سب کی کوشش تھی کہ ان کا ڈر بھی قاتل تک نہ پہنچے
خودکشی کرنے کو نکلے راستے سے لوٹ آئے
یعنی میرے دکھ بھی بزدل تھے جو مقتل تک نہ پہنچے
حمادحیدرنقوی

37