| تھی تمنا جن کی لاحاصل وہ حاصل تک نہ پہنچے |
| کشتیاں اپنی بناتے تھے جو ساحل تک نہ پہنچے |
| آپ نے مرشد ہمیں ہجرت کرائی تھی وطن سے |
| آپ کے بھیجے ہوئے بھی لوگ منزل تک نہ پہنچنے |
| بھوک سے لڑ کر خودی مر جائے گی یہ قوم ساری |
| آپ کی امداد دو دن اور سائل تک نہ پہنچے |
| لوگ ڈر ڈر کے گھروں میں قید رہتے تھے کئی دن |
| سب کی کوشش تھی کہ ان کا ڈر بھی قاتل تک نہ پہنچے |
| خودکشی کرنے کو نکلے راستے سے لوٹ آئے |
| یعنی میرے دکھ بھی بزدل تھے جو مقتل تک نہ پہنچے |
| حمادحیدرنقوی |
معلومات