| یہ دل کا دامن اسیر لوگوں سے بھر گیا ہے |
| زمیں کا ٹکڑا امیر لوگوں سے بھر گیا ہے |
| کسی کے کھانے کی میز پر زہر کی ہے شیشی |
| یہ قاسہ مردہ ضمیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔ |
| جناب۔اصغر ع کی اک سفارش پہ میں نے دیکھا |
| بہشت سارا صغیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔ |
| وجود مجھکو خدا کی جانب سے ایک تحفہ |
| ملا تھا لیکن کثیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔ |
| خراب دل کا کہاں پے سودا کریں گے حیدر |
| یہ سارا عالم فقیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔ |
معلومات