یہ دل کا دامن اسیر لوگوں سے بھر گیا ہے
زمیں کا ٹکڑا امیر لوگوں سے بھر گیا ہے
کسی کے کھانے کی میز پر زہر کی ہے شیشی
یہ قاسہ مردہ ضمیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔
جناب۔اصغر ع کی اک سفارش پہ میں نے دیکھا
بہشت سارا صغیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔
وجود مجھکو خدا کی جانب سے ایک تحفہ
ملا تھا لیکن کثیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔
خراب دل کا کہاں پے سودا کریں گے حیدر
یہ سارا عالم فقیر لوگوں سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔

196