خامشی تجھ کو کہاں چاہتے ہیں
یہ جو دکھ ہیں یہ زباں چاہتے ہیں
کس بہانے سے گزاریں اسے ہم
زندگی تجھ سے زیاں چاہتے ہیں
دور جانے کا ارادہ نہیں ہے
ساتھ چلنا بھی کہاں چاہتے ہیں
ہم نے ہلکی سی بھی آہٹ نہیں کی
خامشی تیری اماں چاہتے ہیں
چپ رہ کے مجھ سے لڑو آج کے دن
لوگ زخموں کے نشاں چاہتے ہیں
اس جہاں سے نہ یوں بہلا مرا دل
ہم ترے دونوں جہاں چاہتے ہیں
زندگی تیرے ستائے ہوئے ہم
لوگ مرنا بھی کہاں چاہتے ہیں

43