| خامشی تجھ کو کہاں چاہتے ہیں |
| یہ جو دکھ ہیں یہ زباں چاہتے ہیں |
| کس بہانے سے گزاریں اسے ہم |
| زندگی تجھ سے زیاں چاہتے ہیں |
| دور جانے کا ارادہ نہیں ہے |
| ساتھ چلنا بھی کہاں چاہتے ہیں |
| ہم نے ہلکی سی بھی آہٹ نہیں کی |
| خامشی تیری اماں چاہتے ہیں |
| چپ رہ کے مجھ سے لڑو آج کے دن |
| لوگ زخموں کے نشاں چاہتے ہیں |
| اس جہاں سے نہ یوں بہلا مرا دل |
| ہم ترے دونوں جہاں چاہتے ہیں |
| زندگی تیرے ستائے ہوئے ہم |
| لوگ مرنا بھی کہاں چاہتے ہیں |
معلومات