```نہیں اب فائدہ کچھ بھی ہمارے زخم بھرنے سے
بچا ہے زندگی میں کیا ترے انکار کرنے سے
زمیں کے قد برابر ہیں یہاں چھوٹے بڑے سارے
برابر ہو نہیں جاتے یہاں انسان مرنے سے
اجالے دو جہانوں میں خدا کی ذات بانٹے گی
اندھیرا دور ہو جائے گا اک جگنو ابھرنے سے
لگایا ہاتھ تو دریا کناروں سے نکل آیا
ہوا سیراب صحرا بھی تمہارے پانی بھرنے سے
ابھی پرہیز کر اے دل قضا کے سامنے مت آ
مری اولاد کم سن ہے مجھے خطرہ ہے مرنے سے
حمادحیدرنقوی```

60