| ```نہیں اب فائدہ کچھ بھی ہمارے زخم بھرنے سے |
| بچا ہے زندگی میں کیا ترے انکار کرنے سے |
| زمیں کے قد برابر ہیں یہاں چھوٹے بڑے سارے |
| برابر ہو نہیں جاتے یہاں انسان مرنے سے |
| اجالے دو جہانوں میں خدا کی ذات بانٹے گی |
| اندھیرا دور ہو جائے گا اک جگنو ابھرنے سے |
| لگایا ہاتھ تو دریا کناروں سے نکل آیا |
| ہوا سیراب صحرا بھی تمہارے پانی بھرنے سے |
| ابھی پرہیز کر اے دل قضا کے سامنے مت آ |
| مری اولاد کم سن ہے مجھے خطرہ ہے مرنے سے |
| حمادحیدرنقوی``` |
معلومات