| اس لئے تو اکثر اس میں قومیں ضائع ہو جاتی ہیں |
| نشے میں دیکھو کتنی نسلیں ضائع ہو جاتی ہیں |
| تم بھی یوسف کے والد کا قصہ پڑھ کے دیکھو تو |
| ہجر میں رونے والوں کی آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں |
| بے عقلوں کی محفل سے تو بہتر یہ خاموشی ہے |
| بے عقلوں کی محفل میں باتیں ضائع ہو جاتیں ہیں |
| دیکھو فن کو فن ہی سمجھو استادی کو رہنے دو |
| استادی کی حسرت میں عمریں ضائع ہو جاتی ہیں |
| لکھنا مشکل ہو جاتا ہے بے چینی کے عالم میں |
| نظمیں رد ہو جاتیں ہیں غزلیں ضائع ہو جاتیں ہیں |
| سالوں محنت کر کے آخر پودے کاٹے جاتے ہیں |
| پھل کے ناقص ہونے سے شاخیں ضائع ہو جاتی ہیں |
| اک سادہ سگریٹ سے رستہ بنتا ہے بربادی کا |
| اس رستے پے حیدر جی عمریں ضائع ہو جاتی ہیں |
معلومات