حیا نے اس کی آنکھوں کو بنایا منفرد ہے
کہ پلکوں پر یہ تل ظالم بٹھایا منفرد ہے
پکارا کیجئے دن میں ہزاروں بار مجھ کو
حسیں ہونٹوں پے میرا نام آیا منفرد ہے
سبھی کو دو عدد کر کے بنایا ہے خدا نے
اکیلی ذات کا خود دکھ اٹھایا منفرد ہے
اندھیری لے اڑی ہے چار تنکے گھونسلے سے
کہ چڑیا نے جو واویلا مچایا منفرد ہے
سبھی آ کر کے غم میں ساتھ بیٹھے اور روئے
خدا نے موت کا رشتہ بنایا منفرد ہے
زمیں آداب فرزندی کا مطلب جانتی ہے
علی جیسے پدر کا اس پے سایہ منفرد ہے

64